انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 9 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 9

تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث سورة المائدة اس میں چلتا ہے۔غرض ساری کائنات کا اس اصول کے ساتھ بندھا ہوا ہونا اور ہمارے علی رے علم میں یہ بات آنی کہ کائنات کی ہر چیز کو انسان کے لئے مسخر کیا گیا ہے۔ہر چیز انسان کی خدمت پر لگا دی گئی جنگ مقدس۔روحانی خزائن جلد نمبر ۶ صفحہ ۱۲۵) ہے۔یہ خود اپنی ذات میں متصرف بالا رادہ ہستی کے وجود پر ایک بڑی زبردست دلیل ہے یعنی اس کائنات میں کوئی انتشار نہیں پایا جاتا۔مخلوقات کی اتنی تعداد ہے کہ انسان کا ذہن اپنے تصور میں بھی وہ تعداد نہیں لاسکتا انسان کی سب گنتیاں ختم ہو جاتی ہیں۔کائنات کی ہر چیز انسان کی خدمت پر لگا دی گئی ہے، انسان کے لئے اس کی تسخیر ہے یعنی کائنات کی ہر چیز کوخدا کا حکم ہے کہ اس نے انسان کی خدمت کرنی ہے۔پس جب ہم کائنات پر غور کرتے ہیں تو لا اله الا الله جو ہمارے ایمان کی بنیاد ہے وہ ثابت ہو جاتی ہے چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں’’وجہ یہ کہ خدا تعالیٰ کی تمام یہ مصنوعات اور یہ سلسلہ نظام عالم کا جو ہماری نظر کے سامنے موجود ہے یہ صاف طور پر بتلا رہا ہے کہ یہ عالم خود بخود نہیں۔یعنی یہ کوئی اتفاق نہیں کہ ایسا ہو گیا ہو۔اب تو سائنسدانوں نے اتفاق کو سائنس بنادیا ہے۔اس علم کو مدون کر دیا ہے اور اس کا نام انہوں نے سائنس آف چانس رکھا ہے۔دس پندرہ سال ہوئے مجھے ایک چھوٹی سی کتاب ملی تھی سائنس آف چانس پر۔میں نے اس کا مطالعہ کیا تھا۔اب یہ علم آگے بڑھ گیا ہوگا لیکن جو بعد کی کتب ہیں وہ میرے مطالعہ میں نہیں آئیں۔جس مختصر سی کتاب کا میں ذکر کر رہا ہوں اور جو نئی نئی آئی تھی اس کے مطالعہ سے مجھے معلوم ہوا کہ سائنس آف چانس کے نتیجہ میں چوٹی کے سائنسدانوں کا ایک گروہ اس بات کی طرف آ گیا تھا کہ انہیں بھی ماننا پڑے گا کہ اس کائنات کا کوئی خالق ہے جو اس کا پیدا کرنے والا ہے۔کوئی مدبر بالا رادہ ہستی ہے جو اس دنیا کو پیدا کرنے والی ہے۔یہ کائنات خود بخود اتفاقیہ طور پر اور بے مقصد معرضِ وجود میں نہیں آگئی کیونکہ اتنے چانسز (Chances) اتنے اتفاقات اکٹھے ہو ہی نہیں سکتے خصوصاً جب یہ بات ہمارے سامنے ہو کہ یہ سارے اتفاقات ( جن کو دہر یہ لوگ اتفاقات کہتے ہیں ) اکٹھے ہو جا ئیں انسان کی خدمت کے لئے۔صرف اربوں کھربوں کی بات نہیں بلکہ اگر ان کو آپس میں ضرب دی جائے تب بھی ان کی تعداد زیادہ بنتی ہے۔بہر حال سائنسدانوں اور دانشوروں کا ایک طبقہ اس کا ئنات کو دیکھ کر اس طور سوچنے لگ گیا ہے کہ اس کا کوئی پیدا کرنے والا ہے۔انسان فطرت صحیحہ رکھتا ہے اس کے سامنے جب یہ چیز آتی