انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 161 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 161

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۱۶۱ سورة الاعراف کی کامل اتباع کی ہے اولَيكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ یہی لوگ ہیں جو خدا تعالیٰ کی نگاہ میں اور اس کے حضور فلاح پانے والے ہیں۔فلاح کا لفظ عربی زبان میں اس قسم کی انتہائی اعلیٰ اور احسن کا میابی پر بولا جاتا ہے کہ اس کے مقابلہ میں اس مفہوم کو ادا کرنے کے لئے کوئی اور لفظ عربی لغت میں نہیں پایا جاتا۔اس کے معنی دنیوی اور اُخروی کامیابی کے ہیں۔دنیوی کامیابی اس معنی میں کہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے صحت والی زندگی دی ہے۔اتنامال اور قناعت دی ہے کہ سوائے اپنے رب کی احتیاج کے اس کو کسی اور چیز کی احتیاج محسوس نہ ہو۔اور عزت و جاہ عطا کیا ہے۔تو جس شخص کو یہ تینوں چیزیں مل جائیں اس کے متعلق کہتے ہیں کہ اس کو فلاح مل گئی۔اور اُخروی کامیابی اس معنی میں کہ اول ایسے شخص کو ایسی دائمی بقا اور دائمی حیات حاصل ہو جو فی الواقع اور فی الحقیقت حیات ہے۔کیونکہ جو لوگ جہنم میں جائیں گے بظاہر وہ بھی زندہ ہوں گے لیکن ان کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ نہ زندہ ہوں گے اور نہ مردہ لیکن حقیقی اور دائمی حیات وہ ہے جس کے اند رفتا، کمزوری یا بیماری کا کوئی خطرہ باقی نہ رہے۔دوم۔جو چاہے اسے ملے۔اللہ تعالیٰ جنتیوں کے متعلق یہی کہتا ہے کہ جو وہ چاہیں گے ان کو مل جائے گا۔خدا کے نزدیک یہ بڑے پیار کا مقام ہے کہ ان کی کوئی خواہش رڈ نہ کی جائے گی۔یا یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ ان کے دل میں کوئی ایسی خواہش پیدا نہ ہوگی جو خدا کی نگاہ میں رڈ کئے جانے کے قابل ہو۔نیک خواہشیں ہی ان کے دل میں پیدا ہوں گی اور انہیں پورا کر دیا جائے گا۔سوم۔اسے اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں اور اس معاشرہ میں جس کا تعلق اُخروی زندگی کے ساتھ ہے۔اور ہم نہیں کہہ سکتے کہ وہ کیسا ہے ) اور جس قسم کے اجتماعی تعلقات ہوں گے اس میں اسے پوری اور حقیقی عزت حاصل ہوگی اور یہ خطرہ نہ ہوگا کہ اسے کبھی ذلیل بھی کر دیا جائے گا۔اور چہارم یہ کہ معرفت میں اسے کمال حاصل ہو۔اللہ تعالیٰ کی صفات کی کامل معرفت اور ان کا کامل عرفان اس دنیا میں مادی بندھنوں میں بندھے ہونے کی وجہ سے ہم حاصل نہیں کر سکتے۔اس دنیا میں ہمارے لئے جن صفات کے جلوے ظاہر ہوتے ہیں وہ ہمارے لئے اپنے کمال کو نہیں پہنچتے۔اگر کسی فرد واحد کے لئے خدا تعالیٰ