انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 160 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 160

۱۶۰ سورة الاعراف تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالث رب سے عہد باندھا ہے اس میں سے وہی لوگ خدا کی نگاہ میں مفلح کہلانے کے مستحق ہوں گے جو اپنے عہد کی رعایت اور پابندی کرنے والے ہوں گے۔نیز وہ جو قرآن کریم کے احکام یعنی ” کرنے کی باتوں کا جو سینکڑوں ہیں اور ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھتے ہیں جُوا اپنی گردنوں میں ڈالنے والے ہیں۔اور نواہی جن کے متعلق کہا گیا ہے کہ ان باتوں کو نہ کرو ان باتوں سے وہ اجتناب کرتے ہیں۔فرما یا أُولَيكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ یہی لوگ فلاح دارین کے حق دار ہیں۔پھر فرمایا وَاتَّبَعُوا النُّورَ الَّذِى أُنْزِلَ مَعَۀ کہ اس نبی اُمّی کے ساتھ آسمان سے ایک نور بھی نازل ہوا ہے۔اس کے ہر قول میں آسمانی روشنی جھلکتی نظر آتی ہے اور اس کے ہر فعل میں اللہ کا نور جلوہ گر نظر آتا ہے۔اتَّبَعَ کے معنی ہیں قَفا آثَرَہ اور آثر کے معنی سنت کے ہیں۔تو اتَّبَعُوا کے معنی ہوئے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک نورانی وجود بنا کر دنیا میں بھیجا تھا مگر یہ اس قسم کا نورانی وجود نہیں جیسا کہ بعض لوگوں کے نزدیک فرض کیا گیا ہے۔بلکہ اِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُم (الكهف: ۱۱۱) ہماری طرح کا ایک بشر ہونے کے باوجود بے حد اور بے شمار انوار روحانی آپ کے ساتھ اور آپ کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائے۔تو اس آیت میں فرمایا کہ یہ رسول نور ہے اس کا ہر فعل نور اور اس کا ہر قول نور ہے۔تم اس کی اتباع کرو گے تو أُولبِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ کے مطابق تم مُفْلِحِينَ میں شامل ہو جاؤ گے۔پس فرمایا کہ جو لوگ اس کی اتباع کرتے ہیں اور اس کے اُسوہ حسنہ کے رنگ میں رنگین ہو کر زندگی گزارتے ہیں۔اس زندگی میں بھی خدا تعالیٰ کا نور ان کے چہروں پر چمکتا ہے اور اُخروی زندگی میں بھی ان کا یہ نور نُورُهُم يَسْعَى بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَبِأَيْمَانِهِمْ (التحریم : ۹ ) ان کے آگے بھی چل رہا ہوگا اور ان کے دائیں بھی چل رہا ہو گا۔یہ علامت ہوگی اس بات کی کہ یہ خدا تعالیٰ کے ان نیک اور پاک بندوں کا گروہ ہے جو سنت محمدیہ کی اتباع کرنے والے ہیں۔غرض فرمایا کہ وہ لوگ جن کا ایمان پختہ ہے۔جن کا ایثار اور جن کی فدائیت اعلیٰ ہے اور جنہوں نے احسن طور پر اپنے نفسوں کی اصلاح کی ہے اور دنیا کے سامنے اپنا پاک نمونہ پیش کیا ہے اور اسوہ رسول