انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 159
تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث ۱۵۹ سورة الاعراف پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ نَصَرُوهُ فلاح دارین کے مستحق وہ لوگ ہیں جو اس کی نصرت اور مدد میں کوشاں رہتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کوکسی ذاتی امداد کی ضرورت نہ تھی۔نہ آپ کو اس کی خواہش تھی۔آپ نے دیگر انبیاء کی طرح علی الاعلان کہا مَا اسْتَلَكُمْ عَلَيْهِ مِنْ اَجر کہ جو کام میرے سپرد کیا گیا ہے میں اس پر تم لوگوں سے کوئی اجر نہیں مانگتا۔پس ہمیں یہاں نصر کے معنی وہ کرنے ہوں گے جس معنی میں یہ لفظ اس وقت استعمال ہوتا ہے جب اللہ تعالیٰ اس کا مفعول ہو۔یعنی جب یہ کہا جائے کہ فلاں شخص نے اللہ تعالیٰ کی مدد کی (نصر الله ) اور لغت عرب میں اس نصرة کا مطلب یہ ہے کہ هُوَ نُصْرَتُهُ لِعِبَادِهِ وَالْقِيَامُ بِحِفْظِ حُدُودِهِ وَرِعَايَةِ عُهُودِهِ وَاعْتِنَاقِ أَحْکامِهِ وَ اجْتِنَابِ نَهْيهِ (مفردات) تو نَصَرُوهُ فرما کر یہ بیان فرمایا کہ قرب الہی کے عطر سے وہی لوگ ممسوح کئے جائیں گے اور حیات ابدی کے وہی وارث ہوں گے جو اخوت اسلامی کو قائم کرتے ہوئے بھائی بھائی کی طرح ایک دوسرے کے مد و معاون ثابت ہوں گے اور شریعت حقہ نے جو حدود قائم کی ہیں اس کی بیان کردہ شرائط کے ساتھ وہ لوگ چوکسی اور بیدار مغزی سے ان کی حفاظت کرنے والے ہوں گے اور وہ عہد جو انہوں نے اپنے رب سے اس نبی امی کے ہاتھ پر باندھا ہے مقدور بھر اس کی پابندی کرنے والے ہوں اور جو اوامر اور احکام پر مضبوطی سے قائم رہیں گے اور ان نواہی سے بچیں گے جن سے بچنے کا خدا تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔فرمایا کہ یہ لوگ ہیں جو اس کی نصرت کرتے ہیں۔ان کا معاشرہ باہمی اخوت کے اصول پر قائم ہے۔بھائی بھائی کی طرح رہتے ہیں۔کسی کی بے جا مخالفت نہیں کرتے ،کسی کو دکھ نہیں دیتے، کسی کو حقارت کی نگاہ سے نہیں دیکھتے، کسی کے خلاف زبان نہیں چلاتے وغیرہ وغیرہ بہت سی حدود ہیں جو شریعت اسلامیہ میں قرآن کریم نے بیان کی ہیں۔بعض جگہ لفظا کہہ دیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی حدود ہیں ان سے تجاوز نہ کرنا اور بعض جگہ معناً ان حدود کی طرف اشارہ کر دیا۔تو نَصَرُوہ کے ایک معنی یہ ہیں کہ وہ لوگ قرآن کریم کی بتائی ہوئی حدود کی حفاظت کرتے ہیں۔ان سے تجاوز نہیں کرتے۔ایک اور معنی نصروں کے یہ ہیں کہ امت مسلمہ جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر اپنے