انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 158
تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث ۱۵۸ سورة الاعراف (صفحہ ۳۳۳ باب العین) کے معنی یہ لکھتے ہیں۔النُّصْرَةُ مَعَ التَّعْظِيمِ نُصْرَةُ بِقَبْحِ مَا يَضُرُّهُ مِنْهُ“۔تو فرمایا کہ آسمانی نصرتوں کے دروازے صرف انہی پر کھولے جائیں گے جو اس نبی اُمتی کی بزرگی اور عظمت اپنے دلوں میں قائم کریں گے اور اس کی عظمت اور جلال کے قیام کے لئے دشمن کے مکروں اور تدبیروں اور ظالمانہ حملوں کے مقابل صدق وصفا کے ساتھ سینہ سپر ہوں گے اور دشمن کے تمام منصوبوں کا اپنے ایثار اور فدائیت کے ساتھ قلع قمع کر کے اس نبی امی کی قوت کا باعث بنیں گے۔اور قیامِ شریعت حقہ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے انصار بنیں گے۔عزر کے مفہوم میں تعظیم بھی شامل ہے اور عذر کے معنی میں یہ مفہوم بھی پایا جاتا ہے کہ اس کی مضبوطی کا باعث بنا اس کے دشمنوں کا مقابلہ کر کے اور ان تمام ضرر رساں چیزوں کو راستہ سے ہٹا کر جن سے اس کو ضرر پہنچنے کا اندیشہ ہو۔تو مدافعت کے لئے جو جہاد مسلمانوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ان دشمنانِ اسلام کے خلاف کیا۔جو اسلام کو مٹانے کے لئے تلوار لے کر اٹھے تھے وہ اس تعزیر کے اندر آتا ہے مطلب یہ کہ انہوں نے ہر قسم کی قربانی دے کر اس ضر ر کو دنیا سے مٹانے کی کوشش کی۔اب جماعت احمدیہ کے ذریعے جو لسانی اور قلمی جہاد قرآن کریم کی اشاعت و تبلیغ کے لئے کیا جا رہا ہے یہ بھی تعزیر کے معنی کے اندر آتا ہے۔کیونکہ ہمارے نوجوان اپنی زندگیوں کو وقف کرتے ہیں، ہر قسم کی تکالیف جھیلتے ہیں۔غیر معروف اور دور دراز علاقوں میں چلے جاتے ہیں اور بہت کم رقوم میں جو انہیں دی جاتی ہیں، گزارہ کرتے ہیں۔وہ ہر قسم کی تکالیف اس لئے برداشت کرتے ہیں کہ عیسائیت کی جو یلغار اسلام کے خلاف جاری ہے اس کا مقابلہ کیا جائے۔جب وہ ایسا کرتے ہیں تو ہمیں یقین ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے مستحق ٹھہرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان سے بہت پیار کرتا ہے۔پس ابتداء اسلام میں جہاد بالسیف اور ہر زمانہ میں (خصوصاً زمانہ حاضرہ میں ) جہاد بالقرآن دونوں تعزیر کے اندر آتے ہیں کیونکہ تعزیر کے معنی میں یہ پایا جاتا ہے کہ کسی کی عظمت دل میں اتنی ہو کہ اس عظمت کی خاطر انسان اپنے نفس کو اور مال کو قربان کر رہا ہو ، تا کہ ان منصوبوں کو جو اسے دکھ پہنچانے اور ضر ر دینے کے لئے کئے جارہے ہوں نا کام بنادیا جائے۔