انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 157 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 157

تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالث ۱۵۷ سورة الاعراف رہی تھیں۔تو فرما یاوَ الْأَغْلَلَ الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهِمْ اللہ تعالیٰ کے اس رسول صلی اللہ علیہ وسلم نبی اُمّی نے ان تمام رسوم اور بدعات کو یکسر مٹا دیا ہے۔اگر تم قرب الہی چاہتے ہو تو رسوم اور بدعات کی بجائے قرآنی راہ ہدایت اور صراط مستقیم تمہیں اختیار کرنا پڑے گا۔جب تک رسوم و بدعات کے دروازے تم اپنے پر بند نہیں کر لیتے اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کے دروازے تم پر کھل نہیں سکتے۔اس کے بعد فرمایا فَالَّذِينَ آمَنُوا بِه یعنے اب وہی لوگ قرب الہی اور فلاح دارین حاصل کر سکتے ہیں جو قرآن مجید پر اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاتے ہیں اور دل سے اس نبی کو اور اس پر نازل ہونے والی شریعت کو حق ، نور اور راہ نجات یقین کرتے ہیں اور جرات اور دلیری کے ساتھ اس دلی یقین کا زبان سے اقرار کرتے ہیں۔اور بر ملا اس کا اظہار کرتے اور اس ہدایت کی اشاعت میں کوشاں رہتے ہیں اور اپنے اعضا اور جوارح اور اپنے قول اور فعل اور عمل سے یہ ثابت کرتے ہیں کہ ان کے ایمان کا دعوی حقیقتا سچا ہے تو فالذِینَ آمَنُوا بِے میں تین باتیں بیان ہوئی ہیں۔(۱) اول دل سے یقین کرنا۔کوئی کھوٹ نہ ہو کوئی کمزوری نہ ہو۔(۲) پھر زبان سے یہ اقرار کرنا کہ ہمارے دل اس صداقت کو مان چکے ہیں۔اظہار کے مفہوم میں ہی یہ بات پائی جاتی ہے کہ پختہ ایمان والا شخص تبلیغ اسلام میں ہر وقت کوشاں رہتا ہے۔دلی ایمان کا تقاضا ہے کہ وہ جرات اور دلیری کے ساتھ اپنے ایمان کا اظہار کرے اور لوگوں کو بتائے کہ جس شریعت پر میں ایمان لایا ہوں۔جس خدا کی کتاب کو میں نے مانا ہے اس میں یہ یہ خوبیاں ہیں اور اللہ تعالیٰ کے قرب کے دروازے وہ اس اس طرح ہم پر کھولتی ہے اور اس کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ کی رحمتیں ہمیں حاصل ہوتی ہیں۔غرض وہ زبان سے تبلیغ اور اشاعت اسلام کرنے والا ہو۔(۳) پھر اس کا محض زبانی دعوی نہ ہو بلکہ اس کی ساری زندگی اسلام کا ایک نمونہ ہو اور وہ اپنے عمل سے یہ ثابت کر رہا ہو کہ جو دعواے اس نے زبان سے کیا ہے اس میں کوئی فریب نہیں۔تو فرمایا کہ وہ لوگ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اس قسم کا ایمان لاتے ہیں وہی اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں فلاح دارین کے مستحق ٹھہرتے ہیں۔پھر فرمایا وَعَذَرُوهُ - عَزَرَ کے معنی ہیں فَخَمَهُ وَعَظَمَهُ (منجد) اور مفردات میں تَعْزِيرُ