انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 156 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 156

۱۵۶ سورة الاعراف تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالث ان میں شامل کر دی تھیں۔لیکن ان کے پیرو بہر حال انہیں روحانی صداقتیں اور روحانی حقائق بتلاتے تھے اور کہتے تھے کہ اپنے رب سے جو پختہ عہد انہوں نے باندھا ہے اس پر قائم رہنا ان کیلئے ضروری ہے۔چونکہ اس وقت دنیا کی یہ حالت تھی اور ایسے وقت میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام دنیا کے لئے ، تمام جہانوں کے لئے اور تمام زمانوں کے لئے مبعوث فرمایا تھا۔اس لئے ضروری تھا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ یہ اعلان کیا جاتا کہ اللہ تعالیٰ نے سب پہلی شریعتوں کو منسوخ کر دیا ہے اور پہلی قوموں نے اپنے اپنے رسول کے ذریعہ جو عہد اپنے اللہ سے باندھا تھا ان کا رب اس عہد کو ساقط کرتا اور ان امتوں کو اس عہد سے آزاد کرتا ہے۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر نیا عہد باندھنے کی تلقین کرتا ہے۔پس اس چھوٹے سے فقرہ ( وَيَضَعُ عَنْهُمْ اِصْرَهُمْ ) میں اعلان کیا گیا ہے کہ پہلی شریعتیں منسوخ اور پہلے عہد جو تھے وہ سب ساقط ہو گئے ہیں۔کیونکہ اضر کے ایک معنی اس پختہ اور تاکیدی عہد کے ہیں جو عہد شکن کو عہد شکنی کی وجہ سے نیکیوں اور ان کے ثواب سے محروم کر دیتا ہے۔چونکہ نیکیوں کی تعلیم آسمان سے آتی ہے اور ثواب اور اجر کا دینا اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اس لئے اس عہد سے مراد عہد بیعت ہی ہوسکتا ہے جو خدا تعالیٰ سے کیا جاتا ہے۔پس فرمایا کہ ہمارا یہ رسول، نبی اُمتی دنیا میں اعلان کرتا ہے کہ قرآن کریم کے اس حکم کے ماتحت کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے سارے قدیم عہد ساقط کر دئے ہیں اور ان کی پابندی تم سے اٹھالی ہے۔اب اس نبی امی خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر اپنے رب سے نئے عہد باندھو، تا اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت کے پہلے سے زیادہ وارث بن سکو۔یہ ایک معنی ہیں يَضَعُ عَنْهُمْ اِصْرَهُمُ کے!! پھر فرمایا وَ الْأَغْللَ الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهِمْ بہت سی قومیں ایسی بھی تھیں جن کا رشتہ اپنی شریعتوں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے کہیں پہلے ٹوٹ چکا تھا اور شریعت کی بجائے من گھڑت بدرسوم اور بدعات شنیعہ میں وہ جکڑی ہوئی تھیں۔اور یہی ان کا مذہب تھا۔خود ساختہ قیود اور پابندیاں ان کو نیکیوں سے محروم کر رہی تھیں اور ان کی تباہی کا باعث بن رہی تھیں۔اور انہیں ان کے رب سے دور کر