انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 155 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 155

تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالث ۱۵۵ سورة الاعراف تھا کہ وہ قومیں اپنی اپنی شریعت کو اپنے اندر قائم کریں گی۔اور ان میں سے ہر ایک شخص اس پر خود بھی عمل کرے گا اور دوسروں سے بھی عمل کرانے کی کوشش کرے گا۔اگر چہ ان کی شریعت بہت حد تک محترف و مبدل ہو چکی تھی۔اور بہت سی بدعتیں اور رسوم انہوں نے اپنی شریعت میں ملا دی تھیں۔لیکن ان میں سے ایک جماعت سمجھتی یہی تھی کہ وہ خدا کی شریعت ہے۔اور ہم نے اپنے ربّ سے یہ عہد کیا ہے کہ ہم اس شریعت پر قائم رہیں گے۔اور اسے قائم کرنے کی کوشش کریں گے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ آل عمران میں فرمایا ہے۔وَإِذْ اَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ الَّذِينَ أوتُوا الْكِتَبَ لَتُبَيّنَةُ لِلنَّاسِ وَلَا تَكْتُمُونَه فَنَبَذُوهُ وَرَاء ظُهُورِهِمْ وَاشْتَرَوْا بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا فَبِئْسَ مَا يَشْتَرُونَ (آل عمران : ۱۸۸) یعنی اس وقت کو یاد کرو کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں سے جنہیں کتاب دی گئی عہد لیا تھا کہ تم ضرورا اپنی قوم کے لوگوں کے پاس اس کتاب کو ظاہر کرو گے (اپنے قول سے بھی اور اپنے عمل سے بھی ) اور اس کی تعلیم کو وضاحت کے ساتھ اور کھول کھول کر بیان کرو گے اور عوام سے اس کو چھپاؤ گے نہیں بلکہ اس کی تعلیم کو عام کرو گے تا علی وجہ البصیرۃ اور حق الیقین کے ساتھ وہ اس پر ایمان لانے والے اور اس پر عمل کرنے والے ہوں مگر باوجود اس کے انہوں نے اسے اپنی پیٹھوں کے پیچھے پھینک دیا۔اور اسے چھوڑ کر تھوڑی سی قیمت ( جو دنیوی مال و متاع ہیں) لے لی۔اور اُخروی نعمتوں کو دنیوی لذات پر قربان کر دیا۔اس پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو وہ لیتے ہیں بہت ہی بڑا ہے۔یہ وہ عہد ہے جو ہر نبی کی اُمت اپنے رب سے کرتی رہی ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جو قو میں اہلِ کتاب میں شمار ہوتی تھیں یا ہو سکتی تھیں وہ اقوام اظہار بھی کرتی تھیں کہ ہم خدا کی نازل کردہ ایک شریعت پر قائم ہیں اور ہم نے اپنے رب سے یہ عہد کیا ہے کہ آئندہ بھی اس پر قائم رہیں گے بلکہ اس شریعت کو قائم کریں گے اور بنی اسرائیل کا بھی اپنے رب سے یہ عہد تھا کہ اللہ تعالیٰ نے جو شریعت تو رات کی شکل میں موسیٰ علیہ السلام پر نازل فرمائی ہے۔وہ اس پر عمل کریں گے اور اس پر قائم رہیں گے۔تو اگرچہ یہ شریعتیں ایک حد تک محترف و مبدل ہو چکی تھیں۔اور انسانی ہاتھوں نے بہت سی بدعتیں