انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 151
۱۵۱ سورة الاعراف تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ہے، تمہیں تھوڑے وسائل دیئے گئے ہیں لیکن تمہیں ایک بشارت دے دیتے ہیں کہ اگر تم اپنی اس تھوڑی زندگی میں ، اس چھوٹی زندگی میں، خلوص نیت کے ساتھ اور کامل توحید پر قائم ہوکر اور شرک کے ہر پہلو سے بچتے ہوئے محدود عمل کرو گے تو تمہیں غیر محدود جزا مل جائے گی۔اللہ تعالیٰ نے انسانی فطرت میں بھی یہی رکھا ہے اور شریعت سے بھی یہی کہلوایا ہے۔پس یہ اسلامی شریعت ایسی شریعت ہے کہ جو آدمی اس پر ایمان لاتا ہے اُسے یہ خطرہ لاحق نہیں ہوتا کہ اس پر ظلم ہوگا اور وہ گھاٹے اور نقصان میں رہے گا۔قرآن کریم نے مختلف پہلوؤں سے اس مضمون پر روشنی ڈالی ہے اور بڑے پیارے رنگ میں روشنی ڈالی ہے۔قرآن کریم نے ظلم کے متعلق تو یہ اعلان کر دیا: - وَمَا أَنَا بِظَلَّامٍ لِلْعَبِيدِ (ق:۳۰) اور اس قسم کی اور بھی بہت سی آیات ہیں کہ اللہ تعالیٰ کسی پر ذرا بھی ظلم نہیں کرتا۔تو اس سے انسان کی تسلی ہوگئی۔فَمَنْ يَعْمَلْ مِنَ الصُّلِحَتِ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا كَفَرَانَ لِسَعيهِ وَإِنَّا لَهُ كُتُبُونَ (الانبياء : ٤) کہ جو ایمان لائے گا اور ایمان کے تقاضوں کو پورا کرے گا اور عمل صالح بجالائے گا نیک نیتی اور خلوص کے ساتھ تو " فَلَا كُفْرَانَ لِسَعيِهِ “ اس کی کوشش اور اس کے عمل بوجہ انسان ہونے کے اگر ناقص رہ جائیں گے تب بھی رد نہیں کئے جائیں گے۔فلا کُفَرانَ لِسَعیہ میں یہ نہیں فرمایا کہ تمہاری سعی قابل قبول ہوگی رو نہیں کی جائے گی بلکہ فرمایا کہ جو شخص اعمال صالحہ بجالائے گا اور وہ مومن ہوگا اور ایمان کے جملہ تقاضوں کو پورا کرے گا تو فَلَا كُفْرَانَ لِسَعیہ اس کو ہم یہ تسلی دیتے ہیں کہ بشری کمزوری کے نتیجہ میں اگر اس کے اعمال میں کوئی کمی اور نقص رہ جائے گا تب بھی اس کے اعمال رڈ نہیں کئے جائیں گے۔وہ قبول کر لئے جائیں گے۔اب یہ کتنا بڑا وعدہ ہے جو فَلا يَخَافُ بَخْصًا میں انسان کو دیا گیا ہے۔پھر فرمایا:- وَأَمَّا مَنْ آمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَهُ جَزَاء الْحُسْنَى ( الكهف : ٨٩) یعنی جو ایمان لایا اور مناسب حال اعمال بجالا یا اُسے بہترین جزا دی جائے گی۔کسی جگہ فرمایا عشر امثالها دس گناہ زیادہ دی جائے گی۔اس طرح پھر ظلم کا تو کوئی سوال ہی نہیں رہتا۔رحمت ہی رحمت