انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 143 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 143

۱۴۳ سورة الاعراف تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث اس کو وہ پورا کرے۔اسی طرح جو فائدہ ممکن طور پر وہ اس سے اٹھا سکتی ہو اس سے اٹھائے اور یہ صرف کافروں کے لئے ہی نہیں، مومنوں کے لئے بھی فرض ہے کہ وہ تکبر کی باریک سے باریک راہوں سے اجتناب کرتے ہوئے آسمانی نشانات اور آیات سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے والے ہوں۔خطبات ناصر جلد اول صفحه ۲۵۵ تا ۲۵۷) آیت ۱۵۷ وَاكْتُبُ لَنَا فِي هَذِهِ الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ إِنَّا هدنا إليكَ قَالَ عَذَابِى أَصِيبُ بِهِ مَنْ أَشَاءُ ۚ وَ رَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلّ شَيْءٍ فَسَاكُتُبُهَا لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَوةَ وَ الَّذِينَ هُمُ بِأَيْتِنَا يُؤْمِنُونَ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے رَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلّ شَيْءٍ کہ میری رحمت نے ہر چیز کا احاطہ کیا ہوا ہے۔نیز ہر چیز جو خدا تعالیٰ نے پیدا کی اور جس کا اس کی ربوبیت نے اور اس کی رحمت نے احاطہ کیا ہوا ہے وہ انسان کے لئے پیدا کی گئی ہے اور انسان کامل کو پیدا کرنا مقصود تھا یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو۔چونکہ ہر چیز انسان کے لئے پیدا کی گئی ہے اس لئے اَسْبَغَ عَلَيْكُمْ نِعَمَهُ ظَاهِرَةً وَبَاطِنَةً (لقمن:٢١) که ظاہر و باطن کی نعمتیں بڑی کثرت کے ساتھ انسان پر نازل ہوتی ہیں اور وہ گنی نہیں جاسکتیں۔دوسری جگہ آیا ہے کہ اگر تم خدا تعالیٰ کی نعمتوں کو گننا چاہو تو گن نہیں سکتے۔اس رحمت کو ظاہر کرنے کے لئے اور ایسے سامان پیدا کرنے کے لئے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی ان وسیع رحمتوں کا عرفان حاصل کرے ایک ایسی ہستی ایک ایسا انسان پیدا کیا گیا جس کو کامل استعداد یں دی گئیں جو پورے طور پر نشوونما حاصل کر چکی تھیں۔وہ انسان کی طرف بھیجا گیا تا کہ انسان کو بتایا جائے کہ جب خدا کا کوئی بندہ خدا کا ہو جاتا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ کا اس کے ساتھ سلوک یہ ہوتا ہے کہ ہر چیز جو خدا نے پیدا کی ہے وہ اسی کی ہو جاتی ہے اور خدا تعالیٰ کی اتنی رحمتیں اور اتنے فضل اور انعام اس بندے پر نازل ہوتے ہیں کہ جن کا حد و شمار نہیں۔اسی غرض کے لئے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مبعوث کیا گیا اور کہا گیا کہ مَا اَرْسَلْنَكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَلَمِينَ (الانبیاء :۱۰۸) ہم نے تجھے عالمین کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔یہ فقرہ تو بہت چھوٹا ہے لیکن اس کے معانی نے دنیا کی ہر چیز کا احاطہ کیا ہوا ہے۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام پہچاننے کے لئے اور آپ کی عظمت اور آپ کے جلال کو جاننے کے