انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 142 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 142

تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالث ۱۴۲ سورة الاعراف عام طور پر اپنے نفس کی بڑائی کے لئے ہوتا ہے میری کبریائی کے اظہار کے لئے نہیں ہوتا وہ حق کے بغیر ہی ہوتا ہے اور جو لوگ تکبر کی وجہ سے، اپنے آپ کو بڑا سمجھنے کی وجہ سے، اپنے آپ کو کچھ جاننے کی وجہ سے، اپنے آپ کو بڑی عظمت والا، بڑے جبروت والا، بڑی طاقت والا، بڑے مال والا، بڑی وجاہت والا اور بڑے علم والا سمجھنے کی وجہ سے میری آیات کو جھٹلا دیتے ہیں اور ان کی طرف توجہ نہیں کرتے خَتَمَ اللهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ وَعَلَى سَمْعِهِمْ وَعَلَى أَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ ( البقرہ : ۸) ان کے اندر ان بد عملیوں کی وجہ سے ایک ایسی تبدیلی پیدا ہو جائے گی کہ وہ حق کے قبول کرنے سے ہمیشہ کے لئے محروم کر دیئے جائیں گے اور اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ جب بھی رشد و ہدایت اور کامیابی کا کوئی راستہ ان کے سامنے آئے گا وہ اس راستہ پر نہیں چلیں گے یعنی میری آیات کے جھٹلانے کی وجہ سے جو تکبر کے نتیجہ میں ہوگا اللہ تعالیٰ دین میں بھی اور دنیا میں بھی کامیابی کی راہیں ان پر مسدود کر دے گا۔متکبر انسان کچھ عرصہ کے لئے تو شاید اپنے آپ کو بڑا خوش قسمت سمجھے اور بڑا کامیاب سمجھے لیکن آخر کا راسی دنیا میں انہیں اللہ تعالیٰ ناکام اور نامراد کرتا ہے وہ کامیابی کا منہ بھی نہیں دیکھتے اور عاقبت ہمیشہ متقی لوگوں کے لئے ہی ہوتی ہے۔آخری کامیابی صرف مومنوں کو ہی نصیب ہوتی ہے آخری فتح صرف ان لوگوں کو ہی ملتی ہے جو نہایت عاجزی اور انکسار کے ساتھ اپنے رب کی چوکھٹ پر پڑے رہتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ان متکبران کو کامیابی کی راہیں کبھی نہیں ملیں گی اور وہ راستے جو ان کیلئے مصیبت بن جائیں گے ان کو وہ خوشی سے قبول کرلیں گے اور نہیں جانیں گے کہ ان کا انجام کیا ہے اور جب وہ اس راستہ پر چل کر اپنے زعم میں خوشی خوشی منزل پر پہنچیں گے تو اس منزل کو نارِ جہنم پائیں گے اور یہ اس لئے ہوگا کہ انہوں نے تکبر کیا ہماری آیات کو جھٹلایا اور ان سے غفلت برتی۔یہ ایک نہایت ہی بھیانک سزا ہے جو ان لوگوں کیلئے تجویز کی گئی ہے جو تکبر سے کام لیتے ہیں اور جس کے نتیجہ میں وہ اللہ تعالیٰ کے نشانات سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔الہی سلسلہ میں نشانات اور آیات کا ایک دریا بہہ رہا ہوتا ہے اور جماعت مومنین کا یہ فرض ہوتا ہے کہ وہ ان آیات اور نشانات کو دیکھے، ان کو سمجھے اور جس غرض کے لئے وہ نشانات ظاہر کئے گئے ہیں