انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 141
۱۴۱ سورة الاعراف تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالث زمانہ کے لحاظ سے اس کے یہ معنی ہوں گے کہ ہمارے اور ہماری انسانی برادری کے درمیان سچ کے مطابق فیصلہ کر دے کیونکہ تو سب فیصلہ کرنے والوں سے بہتر ہے تیرا ہی حکم جاری ہے اور تیرے فیصلے ہی خیر و برکت والے ہیں تو علم کامل کا مالک ہے۔خطبات ناصر جلد دوم صفحه ۳۸۶ تا ۳۸۷) آیت ۱۴۷ سَاَصْرِفُ عَنْ ايْتِيَ الَّذِينَ يَتَكَبَّرُونَ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ ۖ وَ اِنْ يَرَوْا كُلَّ آيَةٍ لَا يُؤْمِنُوا بِهَا ۚ وَإِن يَرَوْا سَبِيلَ الرُّشْدِ لَا يَتَّخِذُوهُ سَبِيلًا ۚ وَإِن يَرَوْا سَبِيلَ الْغَيِّ يَتَّخِذُوهُ سَبِيلًا ۖ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ كَذَّبُوا بِأَيْتِنَا وَكَانُوا عَنْهَا غُفِلِينَ 1999 یعنی میں جلد ہی ان لوگوں کو جنہوں نے بغیر کسی حق کے دنیا میں تکبر کیا ہے اپنے نشانوں کی شناخت سے محروم کر کے اور اپنے نشانوں سے جو فائدہ انہیں پہنچ سکتا ہے اس فائدہ سے محروم کر کے انہیں اپنے سے دور کر دوں گا اور اگر وہ ہر ممکن نشان بھی دیکھ لیں تو وہ ان آیات پر ایمان نہیں لائیں گے۔اگر وہ سیدھا راستہ دیکھ بھی لیں تو اسے کبھی اپنا ئیں گے نہیں اور اگر وہ گمراہی کا راستہ دیکھیں تو اسے وہ اپنا لیں گے یہ اس لئے ہے کہ انہوں نے ہماری آیات کی (بوجہ تکبر کے ) تکذیب کی اور وہ ان سے غفلت برت رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ اس آیت میں یہ فرماتا ہے کہ تکبر کے نتیجہ میں جولوگ میری آیات کو جھٹلاتے ہیں، میں دین میں بھی اور دنیا میں بھی کامیابی کی راہیں ان پر مسدود کر دیتا ہوں۔تکبر ہمیشہ بغیر حق کے ہوتا ہے سوائے بعض شاذ اور استثنائی مظاہروں کے جو گو تکبر نہیں ہوتے لیکن تکبر سے ملتے جلتے ہیں۔جیسا کہ جب مسلمان پہلی بارحج کے لئے مکہ گئے تو اس وقت باوجود جسمانی کمزوری کے وہ طواف کے دوران بڑے اکڑ اکڑ کر چلتے تھے تا مکہ والے یہ نہ سمجھیں کہ مسلمان مدینہ جا کر کمزور ہو گئے ہیں۔ان کی صحتیں خراب ہو گئی ہیں اور اس طرح وہ اللہ تعالیٰ کے اس فضل سے جو صحت اور جسمانی مضبوطی کی صورت میں ان پر تھا محروم ہو گئے ہیں اگر صحابہ کے اس مظاہرہ کو تکبر کا نام دیا جائے تو اسے بغیر حق نہیں کہا جا سکتا کیونکہ ان کا ایسا کرنا محض خدا تعالیٰ کے لئے تھا۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ تکبر جو