انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 140 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 140

۱۴۰ سورة الاعراف تفسیر حضرت خلیفۃالمسیح الثالث سے وہ سہارے ناقص ہوتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ سورہ اعراف میں فرماتا ہے۔وَسِعَ رَبُّنَا كُلَّ شَيْءٍ عِلْمًا عَلَى اللهِ تَوَكَّلْنَا رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَ اَنْتَ خَيْرُ الْفَتِحِينَ کہ اللہ تعالیٰ کا علم ہر چیز پر احاطہ کئے ہوئے ہے کوئی چیز ظاہری یا باطنی لحاظ سے اور اس کے علم سے بالا نہیں بعض اس کا جو ظاہر ہے اسے بھی وہ جانتا ہے اور ان باطنی قوتوں اور استعدادوں کو بھی وہ جانتا ہے جو بے شمار ہیں اور ایسی ہیں کہ انسان کو ان کا علم ہی نہیں صرف چند گنتی کی باتیں ہیں کہ جن کا علم انسان نے اپنی کوشش کے نتیجہ میں اور اللہ تعالیٰ سے صفتیں حاصل کر کے حاصل کر لیا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے علم سے کوئی چیز باہر نہیں ہر چیز اس کے علم کے اندر ہے اس لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم نے کسی ہستی پر توکل کرنا ہو تو تمہیں اس ہستی پر توکل کرنا چاہیے جو کامل علم کی مالک اور ہر علم کا سر چشمہ اور منبع ہے اور چونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات الْعَلِيمُ ہے وَسِعَ رَبُّنَا كُلَّ شَيْءٍ عِلْمًا ہر چیز اس کے علم کی وسعتوں کی چادروں میں لپٹی ہوئی ہے علی اللہ تو عملنا اس لئے ہم اسی پر توکل کرتے ہیں چونکہ ہم ناقص علم کے نتیجہ میں غلط سہارے ڈھونڈتے ہیں اس لئے سہارا حاصل کرنے میں ناکام ہوتے ہیں۔بہت سے لوگ میرے پاس آ جاتے ہیں اور کہتے ہیں فلاں شخص کے پاس ہماری سفارش کر دیں اس شخص کا آپ کے ساتھ تعلق ہے اور میں اس کے نام سے وقف بھی نہیں ہوتا پس ناقص علم کے نتیجہ میں سہارا لینے والا بھی غلط سہارا لے لیتا ہے اور سہارا دینے والا بھی غلط سہارا دے دیتا ہے حالانکہ سہارا حاصل کرنے کے لئے انسان کو ایسی ہستی کی ضرورت ہے جس سے کوئی چیز چھپی ہوئی نہ ہو اور وہ ایسی ہستی ہو کہ اگر سہارا مانگنے والا اس سے غلط سہارا بھی مانگ لے تو وہ اسے صحیح سہارا دے دے یعنی گو بظاہر اس کی دعا رد ہو جائے لیکن حقیقت وہ قبول ہو رہی ہو اور جو سہارا وہ دے جو مد دوہ کرے یا جو احسان وہ کرنا چاہے وہ کامل علم کے منبع سے پھوٹ رہا ہو اور انسان کے لئے کسی قسم کا خطرہ پیدا نہ ہو۔جب ایسا سہارا انسان کو مل جائے تو پھر اس کے اور اس کے مخالفوں بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ اسلام اور اسلام کے منکروں کے درمیان جو فیصلہ ہو گا وہ حق کے ساتھ ہوگا اس لئے یہ دعا سکھائی کہ رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَ اَنْتَ خَيْرُ الْفَتحِينَ اے ہمارے رب ! تو علم کامل کا مالک ہے اس لئے ہم صرف تجھ پر بھروسہ اور توکل کرتے ہیں اور تجھ سے یہ دعا کرتے ہیں کہ ہمارے اور ہماری انسانی برادری کے درمیان سچ کے مطابق فیصلہ کر دے چونکہ یہ زمانہ ایک عالمگیر اخوت اور برادری کا ہے اس لئے اس