انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 139 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 139

تفسیر حضرت خلیفۃالمسیح الثالث ۱۳۹ سورة الاعراف خدا تعالیٰ کی ہدایت اور تعلیم اور وحی کی روشنی حاصل ہو۔الہی نور کے بغیر عقل کو وہ روشنی نہیں ملتی جو عقل کو صحیح راستوں پر چلا سکے اور کامیابیوں تک عقل مندوں کو لے جاسکے۔اس سے ایک تو ہمیں یہ پتہ لگا کہ اپنے حقوق لینے ہوں تو بھی دوسروں کے لئے سکھ پیدا کرنے ہوں گے اور دُکھوں سے بچانا ہو تو بھی دعاؤں کی ضرورت ہے نہ کہ کسی اور چیز کی کیونکہ جب تک عاجزانہ دعاؤں کے ساتھ اور جب تک اجتماعی اور انفرادی دعاؤں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کو انسان جذب نہیں کرتا، اُس وقت تک وہ حق کے دائرہ کے اندر نہیں رہ سکتا۔نہ اپنے حقوق کے حصول کے لئے اس کی کوششیں جائز ہوں گی نہ دوسروں کے حقوق کی ادائیگی کے لئے اس کے اندر ایک جذبہ اور جوش پیدا ہوگا۔دوسری بات ہمیں یہ بتائی گئی ہے کہ ہر وہ شخص جو اپنے حقوق کے دائرہ میں نہیں رہتا اور زیادتی کرتا ہے اور تجاوز کرتا ہے اور حق تلفی کرتا ہے اور دشمنی اور بغض سے دوسرے کو ایذا پہنچا تا ہے اور اپنے لئے وہ کچھ حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے جو اس کا حق نہیں۔وہ اللہ تعالیٰ کے پیار کو کھو بیٹھتا ہے۔اس ضمن میں ہمیں دُنیا میں دو قسم کے لوگ نظر آتے ہیں۔ایک وہ جو عادتا دوسروں کو سکھ پہنچانے میں خوشی محسوس کرتے ہیں اور ایک وہ ہیں جو اپنی بدقسمتی سے دوسروں کو دُکھ پہنچانے میں خوشی محسوس کرتے ہیں۔یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو کم و بیش دنیا کے ہر خطہ میں نظر آتی ہے۔اس وقت دنیاوی لحاظ سے جو ترقی یافتہ ممالک ہیں انہوں نے جو ترقی کی ہے اُس کا راز بھی یہی ہے کہ انہوں نے اس حقیقت کو پہچانا کہ دوسروں کو سکھ پہنچانے کے نتیجہ میں اور اُن کے دُکھ دور کرنے کی وجہ سے قومیں ترقی کیا کرتی ہیں۔( خطبات ناصر جلد پنجم صفحه ۷۲۴ تا ۷۲۷) آیت ۹۰ قَدِ افْتَرَيْنَا عَلَى اللهِ كَذِبًا إِنْ عُدْنَا فِي مِلَّتِكُمْ بَعْدَ إِذْ نَجنَا اللهُ مِنْهَا وَمَا يَكُونُ لَنَا اَنْ تَعُودَ فِيهَا إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللَّهُ رَبَّنَا وسعَ رَبُّنَا كُلَّ شَيْءٍ عِلْمًا عَلَى اللَّهِ تَوَكَّلْنَا رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَومِنَا بِالْحَقِّ وَاَنْتَ خَيْرُ الْفَتِحِينَ۔میں نے بتایا تھا کہ دنیوی سہاروں میں ہمیں یہ نقص نظر آتا ہے کہ ان میں علم کامل نہیں ہوتا اور اسی وجہ