انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 135
تفسیر حضرت خلیفۃالمسیح الثالث ۱۳۵ سورة الاعراف آیت ۳۷ وَالَّذِينَ كَذَّبُوا بِأَيْتِنَا وَاسْتَكْبَرُوا عَنْهَا أُولَبِكَ أَصْحَبُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَلِدُونَ تیسری چیز جس کا ذکر قرآن کریم نے اس ضمن میں کیا ہے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمان سے جو نشانات اور آیات اتارتا ہے ایک متکبر انسان ان کو قبول کرنے کی بجائے ، ان سے فائدہ اٹھانے کی بجائے اور ان کے نتیجہ میں اپنے رب کا عرفان حاصل کرنے کی بجائے ، ان کی تکذیب شروع کر دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وَالَّذِينَ كَذَبُوا بِأَيْتِنَا وَاسْتَكْبَرُوا عَنْهَا أُولَبِكَ اَصْحُبُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خُلِدُونَ (الاعراف: ۳۷) یعنی وہ لوگ جو ہماری آیات کا انکار کرتے ہوئے اور تکبر کرتے ہوئے ان سے اعراض کرتے ہیں وہ دوزخی ہیں۔وہ دوزخ میں ایک لمبے عرصے تک پڑے رہیں گے۔یہاں اللہ تعالیٰ نے انسان کی توجہ اس طرف پھیری ہے کہ ہم اپنی رحمت بے پایاں کے نتیجہ میں تمہاری اصلاح کی خاطر اور تمہارے لئے اپنے قرب اور رضا کی راہیں کھولنے کے لئے آسمانی آیات، نشانات اور معجزات اُتارتے ہیں اور اتارتے رہیں گے۔لیکن تم بھی عجیب ہو کہ جب ہم تم پر اپنے قرب کی راہ کھولنا چاہتے ہیں اور آسمان سے نشانات کو اُتارتے ہیں تو تم اپنے غرور، خود پسندی، ابا اور تکبر کی وجہ سے ان کی طرف توجہ نہیں کرتے اور ان راہوں کو اپنے پر مسدود کر لیتے ہو۔غرض یہاں اللہ تعالیٰ نے استکبار کا ایک نہایت ہی بد نتیجہ یہ بتایا ہے کہ متکبر انسان اللہ تعالیٰ کے نشانات سے وہ فائدہ نہیں اُٹھاتا یا وہ فائدہ نہیں اُٹھا سکتا جس کے لئے اللہ تعالیٰ آسمان سے ان نشانات کو نازل کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جو لوگ تکبر کی وجہ سے میری آیات کو جھٹلاتے ہیں وہ میرے غضب کی آگ میں پڑنے والے ہیں اور انہیں ایسا درد ناک عذاب پہنچے گا کہ وہ سمجھیں گے کہ یہ عذاب تو ختم ہونے والا نہیں ابدالآباد تک کا ہے۔خطبات ناصر جلد اول صفحه ۲۵۵،۲۵۴)