انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 134
۱۳۴ سورة الاعراف تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث گرے۔بعض لوگ کمال تک پہنچنے کے بعد بھی گر جاتے ہیں۔ایسی مثالیں بھی پائی جاتی ہیں قرآن کریم میں بھی ان کا ذکر ہے لیکن جو گروہ کمال کو پہنچا ہوا ہے اور کمال پر رہنے کی کوشش کر رہا ہے ان کے متعلق حدیث میں آیا ہے کہ خدا تعالیٰ ان کی آنکھیں بن جاتا ہے جن سے وہ دیکھتے ہیں، خدا تعالیٰ ان کے کان بن جاتا ہے جن سے وہ سنتے ہیں، خدا تعالیٰ ان کے ہاتھ بن جاتا ہے جن سے وہ۔کام کرتے ہیں، خدا تعالیٰ ان کے پاؤں بن جاتا ہے جن سے وہ چلتے ہیں یعنی ان کی ہر حرکت اور سکون اللہ تعالیٰ کے منشا کے مطابق اور اس کی رضا کے سائے میں اور اس کی برکتوں کو حاصل کرنے والی بن جاتی ہے۔ہر انسان کی یہ خواہش ہونی چاہیے اور میں سمجھتا ہوں کہ ہر احمدی کی یہ خواہش ہے کہ خدا تعالیٰ کا اس قسم کا پیار کا سلوک اس کے ساتھ ہو۔ہر احمدی کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ متقی بننے کے لئے انتہائی کوشش کر رہا ہو اور شیطان کی آواز کو سننے والا نہ ہو۔اسلام نے جو نیکیاں ہمیں بتائی ہیں وہ آگے پھر دو حصوں میں تقسیم ہو جاتی ہیں۔ایک حقوق اللہ ہیں جن کو ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور ایک حقوق العباد ہیں جن کی ادائیگی کا حکم دیا گیا ہے۔فَمَنِ اتَّقُی وَاصْلَحَ کہا گیا ہے۔صالح کے معنی عربی لغت میں یہ بتائے گئے ہیں کہ القائم بالحقوق والواجبات جو بھی حقوق اور واجبات کسی انسان پر ہیں ان کو قائم کرنے والا یعنی وہ ان کی ادائیگی میں ذرا بھی کوتا ہی نہیں کرتا اور اپنی ذمہ داریوں کو پوری توجہ کے ساتھ اور پوری ہمت کے ساتھ پورا کرتا ہے۔ان حقوق میں اللہ تعالیٰ کے حقوق بھی ہیں اور ان حقوق میں بندوں کے حقوق بھی ہیں کہ بندوں کے ساتھ مروت سے پیش آؤ ، ان سے حسن سلوک کرو، ان کے دکھوں کو دور کرنے کی کوشش کرو۔وغیرہ وغیرہ۔( صلاح کے معنی فساد سے الٹ ہیں) فساد کو مٹانے کی کوشش کرو، فساد کی آگ کو اور زیادہ بھڑ کانے کی کوشش نہ کرو۔یہ تقی کا کام ہے، یہ ایک احمدی کا کام ہے اور جس وقت وہ اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں کامیاب ہو جاتا ہے تو اس وقت اس کو جوصلہ ملتا ہے وہ خدا تعالیٰ کا پیار اور اس کی محبت ہے، بہت بڑا صلہ ہے۔اس کے مقابلے میں تو ہر دو جہان قربان کئے جاسکتے ہیں۔(خطبات ناصر جلد ہفتم صفحہ ۸۷ تا ۹۲)