انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 133 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 133

تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالث ۱۳۳ سورة الاعراف کی کوشش کر رہا ہو تو اس کو بھی ہم متقی کہیں گے کیونکہ اگر چہ وہ اپنی استعداد کے انتہائی معیار پر اور ارفع معیار پر ابھی نہیں پہنچا لیکن اپنی استعداد کے ارفع معیار تک پہنچنے کے لئے حتی الوسع پوری کوشش کر رہا ہے لیکن اگر ایک شخص مالی معاملات میں دیانتدار ہے لیکن اپنے ملکوں میں بھی جہاں تک عورت کی عزت کا سوال ہے وہ اس کی پرواہ نہیں کرتا تو اس کو ہم متقی نہیں کہیں گے بلکہ اس کے لئے ضروری ہے کہ انسان یا تو اللہ کے فضل سے اپنی استعداد کی انتہا تک پہنچ جائے اور پھر اسے قائم رکھنے کی خدا تعالیٰ سے تو فیق پارہا ہو ایسا شخص حقیقی متقی ہے۔یا متقی وہ بھی ہے جو اس غرض اور اس مقصد کے حصول کے لئے اپنی کوشش میں لگا ہوا ہے، جو ٹھو کر کھاتا ہو اور پھر کھڑا ہوکر شیطان کی طرف نہ دوڑتا ہو بلکہ اپنے خدا کی طرف دوڑ رہا ہو۔استغفار اور تو بہ کا یہی مفہوم ہے۔انسان غلطی کرتا ہے۔اس کے اندر بشری کمزوریاں پائی جاتی ہیں۔پھر جتنا جتنا وہ تقویٰ کی رفعتوں میں بلند ہوتا چلا جاتا ہے بار یک بار یک چیزیں جو عوام کے لے گناہ نہیں ہوتیں اس شخص کے لئے گناہ بن جاتی ہیں۔یہ ایک علیحدہ مضمون ہے جو عارف تر ہے۔وہ ترساں تر ہے۔سب سے زیادہ خدا تعالیٰ کا خوف اور خشیت اس کے دل میں پائی جاتی ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ جو عام استعداد کا مالک ہے اس پر کوئی الزام ہے۔اسی واسطے میں نے کہا تھا کہ حقیقی متقی وہ ہے جو اپنی استعداد کے لحاظ سے یا تو اپنے کمال کو پہنچ چکا ہو یا اپنی استعداد کے لحاظ سے اپنے کمال کے حصول کے لئے کوشش کر رہا ہو۔ان لوگوں کے متعلق جو ہر پہلو سے خدا کا خوف رکھتے ہیں اور ہر پہلو سے خدا تعالیٰ سے پیار کرنے والے ہیں اور یا تو اپنی استعداد کے کمال کو قریباً پہنچ چکے ہیں ( ہمارے علم اور تجربہ کے مطابق کمال بھی بڑھتا جاتا ہے ) اور یا اس کے حصول کے لئے کوشاں ہیں اور اس میں سستی نہیں دکھا رہے ان کے متعلق یہ ہے فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ کہ یہ جوحقیقی متقی ہیں ان کو نہ پچھلا کوئی غم رہتا ہے اور نہ آگے کی کوئی فکر رہتی ہے یعنی جو غلطیاں انسان سے ہو چکی ہوتی ہیں خدا تعالیٰ کے پیار کی آواز کہتی ہے کہ میری ستاری نے انہیں ڈھانپ لیا۔جس کو خدا تعالیٰ کی یہ آواز پہنچ رہی ہو کہ خدا کی ستاری نے اسے ڈھانپ لیا اسے تو پھر کوئی غم اور فکر باقی نہیں رہتا اور جسے یہ وعدہ دیا گیا ہو کہ ہم تمہاری انگلی پکڑ کر تمہیں آگے ہی آگے لے جائیں گے اس کو بھی کوئی فکر نہیں ہے۔وَهُوَ يَتَوَلَّى الصّالِحِينَ (الاعراف: ۱۹۷) متقیوں میں سے ایک گروہ اپنے کمال کو پہنچا ہوا ہوتا ہے اور پھر کوشش کرتا ہے کہ کمال سے نیچے نہ