انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 129
۱۲۹ سورة الاعراف تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث ہے۔اس مخصوص مجموعہ سے دامن چھڑا کر اللہ تعالیٰ کی صفات کے ان جلوؤں سے جن کے ساتھ انسان کی مختلف قوتیں اور طاقتیں اور استعدادیں فَقَدرَة تَقْدِيرًا کے مطابق باندھی گئی ہیں ان سے الگ تھلگ رہ کر انسان زندگی نہیں گزار سکتا کیونکہ انسانی زندگی کا انحصار اسی الارض پر خدا تعالیٰ کے انہی جلوؤں پر ہے۔آج ہم تمام سائنس دانوں کو بڑے دھڑلے سے یہ چیلنج دیتے ہیں کہ تم ان زمینی خصوصیات اور ان ارضی لوازمات کے بغیر کسی دوسرے کرہ پر رہ کر تو دکھاؤ تم تو انسان کا ایک ایسا پھیپھڑا تک نہیں بنا سکتے جو اس زمینی ہوا کا محتاج نہ ہو۔تم تو ایسا انتظام بھی نہیں کر سکتے کہ پانی کے بغیر انسانی زندگی ممکن ہو۔تم تو ایک ایسا نظام بھی نہیں چلا سکتے کہ جس سے متوازن غذا کے بغیر انسانی صحت کا قائم رکھنا ممکن ہو۔صحت کے ساتھ ہی بقا بھی آ جاتی ہے بعض دفعہ لمبی بیماری نوعمری کی موت پر منتج ہوتی ہے۔صحت کا عمر کے ساتھ بڑا گہرا تعلق ہے اور اس کا دارو مدار اللہ تعالیٰ کی صفات کے انہی جلوؤں پر ہے جنہیں زمین اپنے اندر سمیٹے ہے اور قانونِ قدرت کی صورت میں ہمیں نظر آتے ہیں۔اس زمینی حدود سے باہر ان ارضی صفات سے بے نیاز ہو کر انسان زندہ نہیں رہ سکتا۔خلاصہ آپ یاد رکھیں اور اطمینان پائیں کہ فیها تحبون ایک زندہ صداقت ہے یہ اپنی ذات میں بالکل صحیح ہے لیکن آپ کے لئے اس تشریح کو مد نظر رکھنا ہو گا جو ابھی میں نے زمین کے معنی و مفہوم کے سلسلہ میں بیان کی ہے ورنہ اس تشریح کے بغیر اگر آپ کسی سے بات کریں گے تو وہ آپ کو پاگل سمجھے گا۔اب اس مضمون سے متعلق دوسوال یا دو حصے باقی رہ گئے ہیں یعنی فِيهَا تَمُوتُونَ وَمِنْهَا تُخْرَجُونَ کی تشریح ره گئی ہے۔وقت زیادہ ہو گیا ہے تین بجے تک کا میرا وعدہ تھا سواب تین بج گئے ہیں یہ دوحصے انشاء اللہ کسی اگلے خطبہ میں آجائیں گے۔آمین خطبات ناصر جلد دوم صفحه ۸۲۶ تا ۸۴۸) آیت ۳۲ لِبَنِي آدَمَ خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَ كُلُوا وَ اشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا ۚ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ۔(٣٢) قرآن کریم نے جو یہ فرما یا لِبَنِي آدَمَ خُذُوا زِينَتَكُمْ عِندَ كُلِّ مَسْجِد تو یہاں بھی اسی طرف ہمیں متوجہ کیا گیا ہے۔مسجد تذلل اور عبادت کے مقام کو کہتے ہیں اور زینت سے یہاں مراد دل کی صفائی اور پاکیزگی اور دل کا تقویٰ ہے اللہ تعالیٰ نے یہاں حکم دیا ہے کہ جب بھی میرے حضور