انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 128 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 128

۱۲۸ سورة الاعراف تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالث بے شک یہ ایک کارنامہ ہے اور بہت بڑا کارنامہ ہے اس کو معمولی سمجھنا غلطی ہے لیکن اس میں بھی اللہ تعالیٰ کی یہ شان نظر آتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو کتنی ذہنی اور دماغی قوت عطا کی ہے کہ انسان نے اللہ تعالیٰ کے قانون کو صحیح رنگ میں استعمال کر کے یہ کارنامہ انجام دیا۔اَلْحَمْدُ لِلَّهِ ثُمَّ الْحَمدُ لِلهِ۔لیکن اس پر ہم کو غرور کیوں ؟ قانونِ قدرت کے مطابق وہاں گئے اور وہاں یہ بھی نہیں کیا اور نہ کر سکتے ہیں کہ (اس زمین سے باہر یعنی اس قسم کی ہوا کے بغیر ) سانس لے سکیں کیونکہ کسی جگہ بھی بعینہ ایک قسم کے جلوے ظاہر نہیں ہوتے۔كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ اللہ تعالیٰ کی صفات غیر محدود اس بات سے بھی ظاہر ہوتی ہیں کہ کوئی دو وجود یعنی مخلوقات کے کوئی دو فرد برابر نہیں کہیں بھی اللہ تعالیٰ کی صفات کا کوئی جلوہ دہرایا نہیں جاتا البتہ صفات باری تعالیٰ کے جلوے آپس میں ملتے جلتے ضرور ہیں لیکن اس کے باوجود اپنی الگ انفرادیت رکھتے ہیں۔پس اگر کسی وقت انسان ایسے کرہ میں پہنچ جائے جہاں خدا تعالیٰ کے آثار الصفات کے جلوؤں کا وہ مخصوص مجموعہ اس زمین کے مخصوص مجموعے سے ملتا جلتا ہو یعنی ہوا ہولیکن ممکن ہے آکسیجن میں کمی ہو۔کان کے لئے جو صوتی لہریں Tune ( ٹیون ) ہوئی ہیں ان کا دائرہ تنگ ہو یا Overlap ( اور لیپ) کر رہا ہو یعنی کچھ آواز میں اس کی ہم سن سکیں اور کچھ نہ سن سکیں لیکن بہر حال کام تو وہ کچھ نہ کچھ کرے گا یا آنکھوں کی روشنی اور زبان کی لذت یا وہاں جو ادویہ ہیں وہ ملتی جلتی ہوں۔یوں ویسے ہم نے یہاں کب Perfect ( صحیح) دوائیاں بنالی ہیں۔ابھی تو ملتی جلتی کو اکٹھا کرنے میں ہاتھ پاؤں مارر ہے ہیں۔اسی حالت میں انسان زندہ رہ سکے گا کیونکہ وہ اس زمین سے ملتی جلتی زندگی ہوگی۔الارض کا مفہوم اس پر بھی حاوی ہو سکتا ہے لیکن خدا تعالیٰ کی غیر محدود صفات کا تقاضا یہ ہے کہ جلوے Repeat (دہرائے ) نہ جائیں۔جب سے انسان نے آم کھانے شروع کئے ہیں بے شمار آم پیدا ہوئے لیکن ہر آم کا درخت بھی اپنی انفرادیت رکھتا ہے اور ہر آم کا پھل بھی اپنی انفرادیت کا حامل ہے۔حسّاس دل و دماغ سے بہت ساری ایسی اصطلاحیں نکلتی ہیں جن کو ایک عام آدمی استعمال نہیں کر سکتا اور کسی چیز کے متعلق علم کا نہ ہو ناعدم شئی پر دلالت نہیں کرتا۔یعنی جس چیز کا ہمیں ابھی تک علم نہ ہو اس سے یہ نتیجہ نکالنا بڑی ہی نا معقول بات ہے کہ اس چیز کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں۔بہر حال خدا تعالیٰ کے نزدیک قرآن کریم کی رو سے الارض ایک مخصوص مجموعہ آثار صفات کا نام