انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 127
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۱۲۷ سورة الاعراف سے عطا کیا گیا اور ہر وہ چیز جس کی انسان کو ضرورت تھی وہ اس زمین میں پیدا کر دی گئی۔اگر خدا تعالیٰ کی صفات کے ان مخصوص جلوؤں سے ملتے جلتے جلوے اس عالم کے کسی اور حصے میں بھی نظر آنے لگیں پھر تو وہ یہی زمین الارض ہوئی اس میں انسان زندہ نہیں رہ سکتا ہے۔لیکن اس الارض کو جن معنوں میں قرآنِ کریم نے استعمال کیا ہے اِن معنوں کی رو سے اس قسم کی زمین سے باہر انسان زندہ نہیں رہ سکتا۔فيهَا تَحْيَوْنَ کی صداقت اہل ہے انسانی زندگی کا مدار صفات باری کے اسی زمینی جلوؤں کے ساتھ وابستہ ہے کیونکہ اس ارض کے باہر یہ زمینی جلوے مفقود ہیں اس لئے اس الارض سے باہر زندہ رہنا محال ہے۔ہم ایک لحظہ کے لئے یہ سوچ بھی نہیں سکتے کہ انسان کبھی ایسی دریافت یا اس قسم کی ایجاد کر لے گا جس سے قرآن کریم کی تعلیم یا حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم کی جو تفسیر فرمائی ہے اس پر اعتراض کرنے کے قابل ہو جائے گا۔ہمارا مذہب اسلام بڑا پیارا مذہب ہے۔ہماری کتاب قرآن کریم بڑی ہی عظیم اور حکمتوں سے پر کتاب ہے۔دلائل دے کر سمجھاتی ہے ہر چیز کو اس نے کتاب مبین ہونے کی حیثیت میں کھول کر رکھ دیا ہے اور اس کے کتاب مکنون ہونے کی حیثیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ انتظام کر رکھا ہے کہ ضرورت کے وقت وہ خود اپنے بندوں کو معلم بناتا ہے۔ان کو اس کی حکمتیں سکھاتا اور اس کتاب عظیم کے مخفی رازوں کو ان پر کھولتا ہے۔دنیا میں کوئی ماں ایسا بچہ نہیں بنے گی جو قرآن کریم پر صحیح اور جائز اعتراض کر سکے کیونکہ جب بھی کوئی اعتراض پیدا ہو گا اس وقت اللہ تعالیٰ اپنے فضل اور رحمت سے اُمت مسلمہ میں اپنا ایک ایسا بندہ پیدا کر دے گا جس کا خود وہ معلم بنے گا جس کو خو دوہ اعتراض کا جواب سکھائے گا۔پس فِيهَا تَحيَونَ میں قرآن کریم نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ انسانی زندگی اور بقا اسی الأرض تک محدود ہے۔یعنی آثار صفات باری کے مخصوص جلوؤں ہی میں وہ زندہ رہ سکتا ہے۔انسان اس الأرض کے ان جلوؤں سے باہر زندہ نہیں رہ سکتا اور نہ زندہ رہنے کا تصور ہی کر سکتا ہے۔ہم چاند پر چند گھنٹے کے لئے اُترے نہ اپنے لباس سے باہر آنے کی جرات کی۔نہ اپنے کھانے کو چھوڑ کر کوئی اور کھانے کا خیال آیا۔نہ وہاں کوئی ہوا تھی جس میں سانس لے سکتے۔پس جس کرہ پر ایک سانس بھی نہیں لیا قدم رکھ کر واپس آگئے اس سے قرآن کریم کی ابدی صداقتوں پر تو کوئی حرف نہیں آتا