انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 126 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 126

تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالث ۱۲۶ سورة الاعراف سے انسان کی ہر قوت اپنے نشو و نما کے کمال کو پہنچ جاتی ہے۔غرض زمین یا الارض وہ ہے جس کے اندر انسان کو خدا تعالیٰ کی صفات کے بعض مخصوص جلوؤں کے ساتھ باندھ دیا گیا ہے۔اس کی آنکھ کو بھی، اس کے کان کو بھی ، اس کی زبان کو بھی، اس کی ناک کو بھی، اس کے جسم کے گوشت کے مختلف حصوں کو بھی ، اس کے جسم کی ہڈیوں کے مختلف حصوں کو بھی ، اس کے جسم کے اعصاب کے مختلف حصوں کو بھی، انسانی دماغ اور اس کے مختلف حصوں کو بھی فَقَدَّرَهُ تَقْدِيرًا کی رُو سے اللہ تعالیٰ نے اپنے مخصوص جلوؤں کے ساتھ محدود و مقید کر دیا ہے۔پس یہ ہے وہ زمین یا الارض جس میں انسان کی ہر قوت، ہر قابلیت، ہر استعداد اللہ تعالیٰ کی صفات کے مختلف جلوؤں میں سے کسی نہ کسی جلوے کے ساتھ بندھی ہوئی ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے یہ زمین ہے اور اس زمین کے بغیر تم کہیں بھی زندہ نہیں رہ سکتے۔انسانی عقل بھی یہی کہتی ہے کیونکہ ہمارے پھیپھڑے اسی ہوا کے محتاج ہیں۔ہمارا جسم اسی زمینی پانی کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔اگر انسان کسی ایسی جگہ چلا جائے جہاں صوتی لہریں اُن لہروں سے مختلف ہوں جن کے لئے کان Tune (ٹیون) کئے گئے ہیں تو کوئی آواز سنائی ہی نہ دے خواہ دنیا میں ایک ہنگامہ محشر ہی کیوں نہ بپا ہولیکن انسان سمجھ رہا ہو کہ بالکل سکون ہے۔بے شک یہ فضا زندگی سے لبریز کیوں نہ ہو مگر انسان اس میں کوئی ہل چل ہی محسوس نہ کرے۔اسی طرح آنکھیں ہیں اگر یہ روشنی نہ ہو دوسری قسم کی روشنی ہو تو اس میں انسان تو اندھے کا اندھار ہے حالانکہ خدا کی مخلوق روشنی میں زندگی سے لطف اندوز ہو رہی ہوتی ہے، خوشی سے اپنی زندگی گزار رہی ہوتی ہے۔مگر اس کو کچھ نظر ہی نہ آئے۔ٹٹولتا پھر رہا ہو کیونکہ خدا تعالیٰ کی صفات کا وہ جلوہ جس کے ساتھ انسانی آنکھ کو باندھ دیا گیا تھا وہ جلوہ وہاں نہیں ہوتا۔پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں نے یہ حد بندی کی ہے۔تم اس حد بندی سے باہر نہیں نکل سکتے کیونکہ یہ میری تقدیر ہے میں نے اپنی تقدیر کو چلایا ہے اور ہر ایک چیز کو ایک اندازے کے مطابق بنایا ہے تم میری اس تقدیر کے دائرہ سے باہر نہیں نکل سکتے۔پس اگر زمین کی یہ تعریف ہو کہ زمین اللہ تعالیٰ کی صفات کے مخصوص مجموعہ کا نام ہے یا آثار الصفات کے ایک مخصوص مجموعہ کا نام ہے جس کے ساتھ انسانی طاقتیں ، قو تیں اور استعدادیں بندھی ہوئی ہیں اور جن کی پیدائش انسان کے فائدہ کے لئے ہے اور جن کے علاوہ کوئی اور چیز اس کیلئے فائدہ مند نہیں بن سکتی کیونکہ جو کچھ پیدا کیا گیا ہے وہاں اُسے وَالكُم مِّنْ كُلِّ مَا سَأَلْتُمُوهُ کی رُو