انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 125 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 125

۱۲۵ سورة الاعراف تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالث دریافت کر لی ہے جو صرف کتے کے کان سن سکتے ہیں۔غرض ہر چیز کی حد بندی کر دی یہ حد بندی کا ایک الگ وسیع مضمون ہے لیکن میں اس وقت صرف یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے یہ فرمایا تھا کہ زمین میں اللہ تعالیٰ کی صفات اس رنگ میں جلوہ گر ہوئیں کہ انسانی قوی کا جو بھی تقاضا تھا اللہ تعالیٰ نے اپنی صفات کو اس چیز میں مخلوق کر دیا۔اب یہ مضمون ہے جو اس آیہ کریمہ خَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ فَقَدَّرَةُ تَقْدِيرًا میں بیان ہوا ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر جو بھی قوت پیدا کی اس کو محدود اور مقید کر دیا۔زمین میں جو صفات باری تعالیٰ کے جلوے تھے ان کے ساتھ انسان کو باندھ دیا۔کان کی شنوائی کو صوتی لہروں کے ایک خاص حصے سے جوڑ دیا یہی حال آنکھ کا ہے۔یہی حال زبان کا ہے۔بہت سی چیزیں ہیں جو انسان بڑے شوق سے کھاتا ہے لیکن جانوروں میں سے بعض جانور ایسے بھی ہوتے ہیں کہ اگر ان کے سامنے آپ وہ چیز ڈال دیں تو وہ ناک چڑھا کر پرے ہٹ جاتے ہیں اس چیز کو منہ تک نہیں لگاتے یعنی جس چیز کو جانور منہ نہیں لگاتے اُسے انسان کے مناسب حال بنا دیا۔اس سے انسان کو خود ہی سوچنا چاہیے تا کہ اس کے دل میں غرور اور تکبر پیدا نہ ہو اور اللہ تعالیٰ نے اسے جو عظمت بخشی ہے وہ تو یہ ہے کہ انسان نے جس چیز کو دھتکار دیا جانوروں نے اس کو قبول کر لیا۔بہر حال اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ زمین میں بے شمار خصوصیات ہیں جن میں سے بعض کا میں نے اس وقت ذکر کیا ہے۔مثلاً ہوا ہے، پانی ہے، پھر پانی کی آگے مناسب تقسیم کا انتظام ہے، کھانے پینے کی متنوع اشیاء ہیں، متوازن غذا ئیں ہیں۔پھر اللہ تعالیٰ کی قدرت کا یہ عجیب نظارہ ہے کہ کھانے کی مختلف چیزیں ایک جیسی زمین اور ایک جیسے پانی سے پیدا ہو جاتی ہیں۔پھر ہر ایک چیز میں توازن کے اصول کارفرما ہیں۔غرض تم نے زبانِ حال سے جس چیز کا بھی مطالبہ کیا ہے زمین تمہارے مطالبات کو پورا کرتی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے اپنی صفات کے جلوے اس دنیا میں اس رنگ میں ظاہر کئے ہیں کہ تمہاری کوئی قوت بھی یہ نہیں کہہ سکتی کہ اے میرے رب ! میں نے تجھ سے یہ مانگا تھا اور تو نے وہ مجھے دیا نہیں۔یہ التجا دوسری دعا کی طرح نہیں ہے جو کبھی تو قبول ہو جاتی ہے اور کبھی رڈ کر دی جاتی ہے۔یہ تو دراصل انسان کی ہر قوت، ہر عضو اور ہر استعداد کا فطرتی تقاضا ہے جس کا اظہار وہ زبانِ حال سے کر رہی ہوتی ہے۔غرض اللہ تعالیٰ نے ایسا انتظام کیا ہے کہ کسی قوت کے ضائع ہونے کا امکان باقی نہیں رہا۔اگر انسان از خود حماقت، تکبر یا اللہ تعالیٰ سے بغاوت کی راہ اختیار نہ کرے تو اللہ تعالیٰ کے فضل