انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 118
۱۱۸ تفسیر حضرت خلیفۃالمسیح الثالث سورة الاعراف آخر یہ لہریں اعتدال پر کیوں رہتی ہیں۔ان میں زبر دست جوار بھاٹا کیوں نہیں اُٹھتا۔اتفاق ہر چیز اتفاق۔سورج سے زمین کا فاصلہ اتفاق، چاند سے زمین کا فاصلہ اتفاق ،سورج کے گردز مین کا ایک خاص زاویہ اور محور پر ایک خاص رفتار سے گھومنا اتفاق، کہاں تک اتفاق ، اتفاق کہتے چلے جاؤ گے۔تمہیں ماننا پڑے گا کہ ان عالمین کے پیچھے ایک بالا رادہ ہستی ہے جس نے یہ ساری مخلوق پیدا کی ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے اس آیہ کریمہ میں یہ بتایا ہے کہ دن اور رات جو تمہارے سامنے ہیں اور وہ تمہاری زندگی اور اس کی بقا اور ارتقا کا سامان بہم پہنچا رہے ہیں یہ بتارہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ تمہیں زندہ رکھنا چاہتا ہے اور یہ زمین جس پر تم زندگی گزارتے ہو اس میں یہ خصوصیت ہے کہ سورج سے ایک معین فاصلے پر واقع ہے، چاند سے اس کا ایک خاص اور موزوں فاصلہ ہے،سورج کے گردگھومنے کے لئے ایک خاص محور مقرر ہے اور ایک معین اور مقرر اندازے کے مطابق گردش کر رہی ہے وغیرہ حقائق پر مشتمل یہ حکیمانہ نظام در اصل ایک بالا رادہ ہستی کے وجود کی دلیل نہیں تو اور کیا ہے۔غرض ان حقائق کے نتیجہ میں ہمارے یہ دن اور یہ راتیں وجود پذیر ہوتی ہیں۔فرمایا یہ وہ زمین ہے جس کے یہ دن اور ی راتیں ہیں۔ان کے پیچھے اللہ تعالیٰ کی قدرت کی بے شمار تجلیات جلوہ فگن ہیں۔پھر سورج اور چاند کا ذکر فرمایا اور بتایا کہ اس زمین کا ایک خاص تعلق سورج اور چاند دونوں کے ساتھ ہے۔مثلاً سورج زمین کو اتنی کھا د دے رہا ہے کہ اس ترقی یافتہ زمانے میں ساری دنیا کے کھاد کے کارخانوں میں تیار ہونے والی مصنوعی کھاد مجموعی طور پر اس کا کھر بواں حصہ بھی نہیں بلکہ صحیح جزو بتانے کیلئے شاید ہمارے اعداد و شمار ختم ہو جائیں۔اس سلسلہ میں باتوں باتوں میں ایک نئی تحقیق میرے ذہن میں آگئی ہے وہ بھی میں بتا دیتا ہوں۔سائنس نے یہ دریافت کیا ہے کہ جب بادل آتے ہیں اور بجلی چمکتی ہے ایک تو گرج کی آواز ہے جو بعض لوگوں کو ڈرا دیتی ہے اور بعض کو اللہ تعالیٰ کی حمد پر مجبور کر دیتی ہے۔چنانچہ بادلوں میں چمکنے والی یہ بجلی نصف گھنٹے میں اتنی مصنوعی کھاد پیدا کر دیتی ہے جس کو ساری دنیا کے کارخانے ایک دن یا شاید ایک سال میں جا کر بھی تیار نہیں کر سکتے۔بہر حال سورج اور چاند کے ساتھ زمین کا تعلق جس حد تک ہماری سائنس نے ہمیں بتایا ہے وہ ایک ظاہر و باہر حقیقت ہے۔سورج کے ساتھ زمین کے تعلق کی ایک چھوٹی سی مثال میں نے ابھی دی ہے اب چاند کے زمین کے ساتھ تعلق کی بھی مثال دے دیتا ہوں جو چھوٹے بچوں کیلئے دلچسپی کا موجب بھی ہوگی۔چاندنی راتوں میں یہ لمبی سی تر