انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 114
۱۱۴ سورة الاعراف تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث اُٹھائے۔ہم ڈسٹل (Distil) کر کے جو عرق نکالتے ہیں وہ بھی اتنا صاف نہیں ہوتا جتنے یہ بخارات صاف ہوتے ہیں یا ہم پانی کو ابال کر جراثیم مارتے ہیں اس میں بھی وہ بات نہیں جو خدا تعالیٰ کے اس نظام میں ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے یہ اُصول بنا دیا ہے کہ یہ دو پانی (ایک سمندر کا اور دوسرا دریاؤں وغیرہ کا آپس میں مل نہیں سکتے۔اس گول زمین میں اونچائی اور نیچائی یعنی نشیب وفراز کا اصول اللہ تعالیٰ ہی چلا سکتا تھا انسان خواہ کتنا ہی سوچے اس کے دماغ میں تو یہ آہی نہیں سکتا۔مثلاً اگر آپ دو گیند بنائیں اور ان میں اگر زمین کی کشش وغیرہ کا حصہ نہ ہو تو آپ کو سمجھ بھی نہیں آ سکتی کہ ان میں اونچ نیچ کیسے رکھیں یا نشیب و فراز کیسے بنائیں لیکن اللہ تعالیٰ کی قدرت دیکھئے کہ نشیب میں گندے پانی کو رکھا اور اونچی جگہ پر صاف پانی کو رکھا جو برسات کے موسم میں موسمی بارشوں یا چشموں یا برف سے پگھلے ہوئے پانی سے دریاؤں کی شکل میں بہہ نکلتا اور ایسا حکیمانہ انتظام کر دیا ہے کہ یہ دونوں ( سمندر اور دریاؤں وغیرہ کے ) پانی آپس میں ( خواص کے لحاظ سے ) ملتے نہیں۔ایسا نہیں ہوسکتا کہ سمندر کا پانی دریاؤں کے پانی کو خراب کر دے بلکہ بادلوں کے ذریعہ، ہواؤں کے ذریعہ اور پہاڑوں کے انتظام کے ساتھ ایک ایسا نظام جاری کر دیا جس کے ذریعہ گندے پانی میں سے اچھے پانی کے انسان تک پہنچنے کا انتظام ہوتا رہتا ہے۔غرض اس سارے انتظام کی بدولت ایک روک بھی ایسی پیدا کر دی کہ دنیا کی کوئی طاقت اس روک کو دُور نہیں کر سکتی اور ایک پل بھی ایسا بنا دیا کہ پانی کے جتنے فوائد ہم حاصل کرنا چاہتے ہیں اس پل کے ذریعہ ہمیں حاصل ہونے لگ گئے۔پس قرآن کریم کی رُو سے یہی وہ الْاَرْضِ یعنی زمین ہے جہاں پانی ہے جو حیات اور زندگی کا منبع اور سر چشمہ ہے اور پھر زندگی کے اس سر چشمے کی آگے مناسب تقسیم کیلئے اللہ تعالیٰ کی صفات کے جلوؤں نے ایک عظیم انتظام کر رکھا ہے۔اللہ تعالیٰ نے زمین کی ایک اور خاصیت یہ بیان فرمائی ہے کہ ایک جیسی زمین ہوتی ہے، ایک ہی قسم کے پانی سے سیراب ہوتی ہے مگر اس میں مختلف قسم کی چیزیں پیدا ہوتی ہیں۔کھیتوں کو دیکھئے زمین کے لحاظ سے یہ ایکٹر اور وہ ایکٹر دونوں برابر ہیں۔ایک ہی نہر سے ہم انہیں پانی دے رہے ہوتے ہیں یا ایک ہی Tubewell ( ٹیوب ویل) یا کنوئیں کے پانی سے وہ سیراب ہو رہے ہوتے