انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 4 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 4

سورة المائدة تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث چنانچہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ایسے انسانوں کی حرمت کو بھی قائم کیا گیا ہے جو اپنے رب کے فضل اور اس کی رضا کی تلاش میں ہیں اب اللہ تعالیٰ نے یہ عام اصول وضع کر کے ہمارے سامنے رکھ دیا ہے اور ہمیں یہ کہا ہے کہ میرے بندوں میں سے ہر وہ بندہ جو میرے فضل کی تلاش میں ہے وہ میرے نزدیک معزز اور محترم ہے۔تمہیں بھی اس کی عزت اور احترام کرنا پڑے گا اور اگر تم اس کی عزت نہیں کرو گے اس کا احترام نہیں کرو گے تو میری اطاعت کے دائرہ سے باہر ہو جاؤ گے۔پھر بعض حرمتیں انسان کی قائم کی گئی ہیں مثلاً انسان کی یہ عزت اور حرمت قائم کی کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم نے کسی انسان پر ظلم نہیں کرنا ( اسی آیت میں جو میں نے پڑھی ہے یہ مفہوم بیان ہوا ہے ) اور کسی پر تعدی نہیں کرنی۔پھر انسان کی یہ حرمت بیان کی کہ نیکی اور بھلائی کے کاموں میں اس سے تعاون کر نا اور نیکی اور بھلائی کے کام دو قسم کے ہوتے ہیں ایک کام تو دنیا سے تعلق رکھنے والے ہیں یعنی وہ کام دنیا کی معاش اور دنیا کی اقتصادیات سے تعلق رکھتے ہیں اور اس میں ایک مسلمان اور غیر مسلم میں کوئی فرق نہیں ہوتا مثلاً اسلام نے ایک انسان کے اقتصادی حقوق قائم کئے ہیں اب اگر کوئی غیر مسلم اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے اصول کے مطابق یا کچھ فرق کے ساتھ (بہر حال نیکی کی طرف اس کی طبیعت مائل ہے ) انسان کے اقتصادی حقوق کو قائم کرتا ہے تو مسلمان کا یہ فرض ہے کہ وہ اس سے تعاون کرے۔کیونکہ تَعاوَنُوا عَلَى الْبِرِ وَالتَّقوی میں تعاون علی البر میں مسلم اور غیر مسلم کی کوئی شرط نہیں گو تعاون علی النقوی میں وہ شرط آ جاتی ہے پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جہاں غریب کے محتاج کے، ضرورت مند کے اور مظلوم کے سیاسی اور اقتصادی حقوق دینے کا سوال ہوگا وہاں جو کوئی تقویٰ کے اصول پر یعنی اللہ تعالیٰ سے خوف کرتے ہوئے اور اس کی پناہ میں آکر اور اس کی رضا کے حصول کے لئے یہ کام کرے گا ہر دوسرے مسلمان کا یہ فرض ہے کہ وہ اس کے ساتھ تعاون کرے اور پھر فرمایا کہ انسان کا یہ حق ہم نے قائم کیا ہے کہ جب وہ گناہ کرنے لگے تو تم نے اس سے تعاون نہیں کرنا۔غرض انسان کی یہ حرمت بھی ہے کہ گناہ میں اس سے تعاون نہیں کرنا کیونکہ اس کے نتیجہ میں وہ اللہ تعالیٰ کے غضب کے نیچے اور بھی زیادہ آجائے گا اور اس میں مسلمان اور غیر مسلم سب برابر ہیں۔۔۔۔۔۔میں نے بتا یا تھا کہ زمانہ اور مکان اور مخلوق کی حرمتوں کو اللہ تعالیٰ نے قائم کر کے ہر اس چیز کو، ہر اس مخلوق کو اور ہر اس انسان کو جس کے متعلق خدا تعالیٰ نے حکم دیا اور اس کے حق کو قائم کیا ہے شعائر اللہ