انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 3
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث سورة المائدة ہوں مثلاً اس نے فرمایا میں نے شہر حرام کو حرمت اور عزت والا مہینہ بنایا ہے میں نے اسے شعائر اللہ سے بنایا ہے، اسے عظمت اور احترام والا مہینہ بنایا ہے۔اب اس عزت اور حرمت کا تعلق زمانہ سے ہے اور اس میں ہمیں یہ سبق دیا گیا ہے کہ بعض زمانے اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت معزز ہو جاتے ہیں اور جوان زمانوں مہینوں یا دنوں کی عزت اور احترام سے غافل ہوتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے غضب کے نیچے ہوتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کا پیار نہیں حاصل کرتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمارے اس جلسه ( جلسہ سالانہ ) کو بھی عزت اور حرمت والا زمانہ قرار دیا ہے چنانچہ یہ فرمایا ہے کہ چونکہ یہ سلسلہ آسمانی ہے اور حکم ربانی ، اس لئے جلسہ میں ضرور تشریف لائیں اور جو لہ سفر کیا جاتا ہے وہ عنداللہ ایک قسم عبادت کی ہوتا ہے۔( مجموعہ اشتہارات جلد ا صفحه ۳۴۰ تا ۳۴۲) پس خالی شہر حرام کی حرمت اللہ تعالیٰ نے قائم نہیں کی بلکہ اور زمانوں کی حرمت کو بھی اللہ تعالیٰ نے قائم کیا ہے مثلاً اس سے بہت زیادہ حرمت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کی قائم کی ہے آپ کی تمام مکی اور مدنی زندگی جو تھی وہ سارا زمانہ عزت اور احترام والا زمانہ تھا۔جب آسمانوں سے فرشتوں کا نزول ہوتا تھا اور وہ بڑی کثرت کے ساتھ انسانوں میں اللہ تعالیٰ کی برکتیں بانٹ رہے ہوتے تھے۔پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں بعض مکانوں کو عزت دے دیا کرتا ہوں۔اب ان مکانوں کی اینٹوں اور گارا یا سیمنٹ اور شہتیر یاری انفورس کنکریٹ کی جو چھت ہے اس کو تو کوئی عزت نہیں دیتا بلکہ انسان کے سامنے یہ بات ہونی چاہیے کہ خدا تعالیٰ نے اس مکان کو عزت والا مقام عطا فرمایا ہے اور ہمیں اس کی عزت کرنی پڑے گی۔اگر تم یہ کہو کہ جس طرح کے مکان لاہور یا راولپنڈی یا پشاور یا کراچی یا لنڈن یا واشنگٹن کے ہیں اسی طرح کے مکان مکہ کے مکان ہیں اسی طرح کے مکان مدینہ کے مکان ہیں یا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مکان ہیں تو یہ غلط ہوگا کیونکہ بے شک ان سب مکانوں پرا مینٹ اور گا را یا دوسرا میٹریل (Material) جو لگا ہے وہ ایک جیسا ہے لیکن ایک وہ گھر ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے عزت اور عظمت عطا نہیں کی اور ایک وہ مکان ہے جس کو اللہ تعالیٰ عزت اور احترام دیتا ہے اور جسے اللہ تعالیٰ عزت اور احترام دے تمہیں اس کی عزت کرنی پڑے گی یہاں اس آیت میں چونکہ بیت الحرام کی عزت کا ذکر ہے اس لئے یہ حرمت مکان سے تعلق رکھنے والی ہے پھر انسان کی حرمت ہے اور پھر انسانوں میں سے مسلمان کی حرمت ہے اس حرمت کو بھی اللہ تعالیٰ نے قائم کیا ہے