انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 96 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 96

تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۹۶ سورة الانعام آیت ۱۶۲ تا ۱۶۵ قُلْ اِنَّنِي هَديني رَبِّي إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ دِينًا قِيَمَا مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا ۚ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ لَا شَرِيكَ لَهُ وَ بِذلِكَ أُمِرْتُ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ۔قُلْ أَغَيْرَ اللَّهِ أَبْغِي رَبَّا وَهُوَ رَبُّ كُلِّ شَيْءٍ وَلَا تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍ إِلَّا عَلَيْهَا ۚ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أخْرى ثُمَّ إِلى رَبَّكُمْ مَّرْجِعُكُمْ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُونَ اللہ تعالیٰ کا حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ حکم دینا کہ اے رسول! آپ دنیا کو اپنے قول اور فعل سے یہ بتا دیں کہ میری عبادت اور میری قربانی بھی، میرا جینا بھی اور میرا مرنا بھی سب اللہ تعالیٰ ہی کیلئے ہے۔اس میں در اصل عبادت اور قربانی کا تعلق بھی مماتی ہی سے ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کا سوال ہو یا اس کی راہ میں دوسری قربانیاں دینے کا سوال ہو، اس سے دعائیں کرنے کا سوال ہو یا اس کی تسبیح کرنے کا سوال ہو ان سب عبادات اور قربانیوں میں اللہ تعالیٰ کے لئے اپنے نفس پر ایک موت وارد کرنی پڑتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ کا بندہ جب اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے موت کو قبول کرتا ہے تو یہ موت اس کی دائمی فنا کا باعث نہیں بنتی بلکہ اس کی دائمی حیات کا باعث بن جاتی ہے اگر انسان اپنی اپنی استعداد کے مطابق اللہ تعالیٰ میں فنا ہو کر اس کی ہر صفت اور اس کی ہر صفت کے ہر جلوے کے سامنے اپنی گردن رکھ دے تو اُسے اپنے رب سے ہر پہلو اور ہر زاویہ سے ایک کامل اور مکمل حیات نصیب ہوتی ہے۔حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی چونکہ جسمانی، ذہنی، اخلاقی اور روحانی قوتیں اس رنگ میں کامل اور مکمل تھیں کہ کوئی انسان پہلوں اور پچھلوں میں سے ان کا مقابلہ ہی نہیں کر سکتا کیونکہ آپ نے کمالِ فنا کے ذریعہ ایک کامل حیات پائی تھی۔آپ نے اپنی اس حیات مقدسہ کو اپنی ذاتی اغراض کے حصول کا ذریعہ نہیں بنایا بلکہ آپ زندگی بھر تو حید خالص کے قیام میں ہمہ تن کوشاں اور بنی نوع انسان