انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 95 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 95

تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث ۹۵ سورة الانعام نہ دعا کرو، نہ عبادتیں بجالا ؤ، نہ شریعت کے دوسرے احکام پر عمل کرو، نہ ان پیشگوئیوں کو سچا سمجھو جو اللہ تعالیٰ نے خود تمہاری مسلمہ کتابوں میں نازل فرمائی ہیں۔تو تم کیسے برکات قرآنی سے فائدہ حاصل کر سکتے ہو۔پس فرمایا کہ اگر چہ یہ قرآن مُبارك اور مُصدّق ہے لیکن اس پر ایمان وہی لائے گا جو اپنی کتاب کی پیشگوئیوں پر پختہ ایمان رکھتا ہو اور اپنی شریعت کو قائم کرنے والا ہو، دعا کرنے والا اور عبادت گزار ہو۔اور جو ان تقویٰ کی راہوں پر چلنے والا ہو جو اس کے لئے کھولی گئی تھیں۔اگر وہ اپنے زمانہ کی ذمہ داریاں نہیں نبھا سکا تو وہ ذمہ داریاں جو سارے زمانوں سے تعلق رکھتی ہیں وہ کیسے نبھا سکے گا؟ سارے زمانہ کی ذمہ داریاں اس لئے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر زمانہ اور ہر قوم کے لئے ہیں۔پس وہ شخص جو اپنی قوم کی ذمہ داریاں نہیں نبھا سکا تو وہ ذمہ داریاں جو ساری اقوام کی ہیں وہ کیسے نبھا سکے گا؟ اس لئے وہ قرآن کریم کی برکات سے محروم رہ جائے گا۔اس میں اُمت مسلمہ کو اس طرف متوجہ کیا گیا ہے کہ وہ پیشگوئیاں جو قرآن کریم یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال میں پائی جاتی ہیں ، بشارتوں کے رنگ میں ہوں یا انذار کے رنگ میں۔ان سب کو ماننا ضروری ہے۔فرمایا کہ اگر تم لوگ ان پر پختہ یقین نہیں رکھو گے۔انہیں بھول جاؤ گے، ان کی تاویلیں کرنے لگ جاؤ گے کہو گے کہ یہ تو احادیث میں غیر ثقہ لوگوں نے ملادی ہیں۔اور جب وہ واقع ہو جائیں گی تب بھی تمہیں سمجھ نہ آئے گی کہ غیر ثقہ لوگوں نے زمین و آسمان کی تاریں کیسے ملا دیں اور ان کا وقوعہ کیسے ہو گیا تو یقینا تم بھی قرآنی برکات سے محروم رہو گے۔پھر اگر تم قرآن کریم کی بیان کردہ عبادت بجا نہ لاؤ گے۔قرآن کریم کے طریق کے مطابق دعاؤں میں مشغول نہیں رہو گے، قرآن کریم کی شریعت کو اپنا لائحہ عمل اور دستور قرار نہیں دو گے تو تم کبھی ان برکات سے فائدہ حاصل نہیں کر سکو گے۔جن برکات کا تعلق ان لوگوں سے ہے۔جو پختہ ایمان رکھتے ہیں ، دعا کر نیوالے ہیں عبادت میں مشغول رہنے والے ہیں اور جو شریعت کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھالنے والے ہیں پس اگر تم کتاب مبارک اور احکام شریعت کو ٹھکرا دو گے اور پیٹھوں کے پیچھے پھینک دو گے تو باوجود اس کے کہ تم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہونے والے ہوگے۔خدا کے غضب اور قہر کے مورد بن جاؤ گے۔خطبات ناصر جلد اول صفحه ۳۶۲ تا ۳۷۲)