انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 94 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 94

تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث ۹۴ سورة الانعام تاویلیں کرنی شروع کر دیتے ہیں جس کی وجہ سے وہ برکات سے محروم ہو جاتے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو لوگ ان پیش خبریوں کو جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم کے متعلق پچھلی تمام کتب سماویہ نے دی تھیں۔بھلائے ہوئے نہیں۔بلکہ ان کو اپنے ذہنوں میں مستحضر رکھتے ہیں۔ان کی غلط تاویلیں نہیں کرتے ، ان کو پختہ یقین ہے کہ یہ خدا کی بات ہے اور ضرور پوری ہوکر رہے گی۔اور اس کے ساتھ ہی وَهُمْ عَلَى صَلَاتِهِمْ يُحَافِظُونَ وہ اپنی شریعت کے مطابق جو ہم نے ان پر نازل کی دعا اور عبادت میں لگے ہوئے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ کسی نیکی اور ثواب کا حصول خدا تعالیٰ کے فضل کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے۔اس لئے ہر وقت دعا میں لگے ہوئے ہیں عبادت کر رہے ہیں اور اپنی شریعت کو حتی المقدور قائم کئے ہوئے ہیں۔یہی لوگ ہیں يُؤْمِنُونَ بِہ جو قرآن کریم پر ایمان لانے کی توفیق پائیں گے۔جو شخص قرآن کریم پر ایمان نہیں لاتا خدا تعالیٰ اسے موردالزام ٹھہراتا ہے۔کہ تم وہ لوگ ہو جو خود اپنی شریعت کے مطابق نہ دعا کرتے ہو اور نہ ہی عبادت کرتے ہو اور نہ ہی شریعت کے دوسرے احکام بجالاتے ہو اور نہ ہی اپنی شریعت کی حفاظت کرتے ہو۔بلکہ جو پیشگوئیاں اور بشارتیں تمہیں ملی تھیں تم ان کا انکار کر رہے ہو۔یا ان کی غلط تاویلیں کر رہے ہو، تو تم خدا تعالیٰ کے فضل کو کیسے کھینچ سکتے ہو؟ تم نے اس شریعت کی قدر نہیں کی جو تم پر نازل کی گئی تو تم اس شریعت پر کیسے ایمان لا سکتے ہو جو تمہاری قوم سے باہر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کی گئی یا تمہاری قوم میں سے ایک ایسے شخص پر نازل کی گئی جو تمہارے خیال میں خدا کے نزدیک اس قدر کے قابل نہ تھا جو قدر اس کی کی گئی اور تمہارے خیال میں یہ کتاب اس شخص پر نازل ہونی چاہیے تھی جس کے متعلق تم فیصلہ دیتے کہ وہ قوم میں بڑا دیانتدار اور ہر لحاظ سے اس قابل تھا کو خدا کا کلام اس پر نازل ہوتا۔تو تمام اقوامِ عالم پر الزام دھرتے ہوئے فرمایا کہ تمہارا قرآن کریم سے انکار کرنا اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ قرآن کریم میں کوئی نقص ہے یا قرآن کریم ان خوبیوں کا مجموعہ نہیں جن خوبیوں کا مجموعہ خدا تعالیٰ اسے قرار دیتا ہے یا وہ مصدق نہیں اور تمہاری کتب کی پیشگوئیوں کے مطابق نہیں آیا۔نہیں ! بلکہ اصل وجہ یہ ہے کہ جو شریعت تم پر نازل کی گئی تھی تم خود اس کے پابند نہیں تھے اور نہ اس پر عمل کرتے تھے۔