انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 2
سورة المائدة تفسیر حضرت خلیفۃالمسیح الثالث دلیل یا کوئی اور مصلحت تجویز نہیں کر سکتی تھی مثلاً اللہ تعالیٰ نے حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی کے متعلق آپ کی قوم کو فرمایا کہ اسے کچھ نہیں کہنا، اب وہ اونٹنی اونٹوں میں سے ایک فرد تھی اُس کی یہ عزت اس کے اونٹنی ہونے کی وجہ سے نہیں بلکہ اس کے پیچھے یہ سبق تھا کہ تم میری اطاعت کرو اگر میں کہوں کہ اس اونٹ کی عزت کرنی ہے تو اگر تم میرے فرماں بردار ہو تو تمہیں اس اونٹ کی عزت کرنی پڑے گی۔اس سبق کو بار بار یاد کرانے کے لئے اور اس لئے کہ ہم اطاعت باری پر مضبوطی سے قائم ہو جائیں ہر سال لاکھوں اونٹ گائیں بھیڑیں اور بکریاں ہیں کہ جن کے متعلق اسلام میں اللہ تعالیٰ نے یہ کہا ہے کہ میں ان کو عزت دیتا ہوں اور تمہیں بھی ان کی عزت کرنی پڑے گی۔شروع میں جو آیت میں نے پڑھی ہے اس میں اللہ تعالیٰ نے اس قسم کی مختلف عزتوں کو قائم کر کے یہ سبق دہرایا ہے اور اس نے یہ سبق بار بارد ہرایا ہے اور ہمیں اس پر پختہ طور پر قائم رہنے کی طرف توجہ دلائی ہے چنانچہ فرمایا ہے لا تُحِلُّوا شَعَابِرَ اللهِ یعنی اللہ تعالیٰ کے نشانوں کی بے حرمتی نہیں کرنی۔شعائر کے معنی ہیں نشان اور علامات۔اور نشانات اور علامات کے یہاں یہ معنی ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے نشانات اور علامات ہیں یہ اس کی فرماں برداری کے نشانات اور علامات ہیں اس کے علاوہ تمہیں اور کچھ نظر نہیں آئے گا۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں یہ علامت اور نشان قائم کر دیتا ہوں تم میرے حکم کی اطاعت کرو۔یہ علامت اور نشان ایک ظاہری چیز ہوتی ہے جس کے اندر نہ تو عقل ہوتی ہے اور نہ شریعت اور انسانی فطرت اس کی کوئی بزرگی تسلیم کرنے کے لئے تیار ہوتی ہے۔خود اسلام کی یہ تعلیم ہے کہ میں نے انسان کے علاوہ ہر مخلوق کو انسان کی خدمت پر لگایا ہوا ہے اور جن چیزوں کو انسان کی خدمت پر لگائے جانے کا قرآن کریم بار بار اعلان کر رہا ہے انہی میں سے اللہ تعالیٰ بعض کو لے لیتا ہے اور کہتا ہے تم نے ان کی عزت کرنی ہے تم نے ان کا احترام کرنا ہے، تم نے ان کی بے حرمتی نہیں کرنی کیونکہ یہ نشان ہیں اگر کوئی سوال کرے کہ یہ کس چیز کا نشان ہیں تو ہم کہیں گے یہ اطاعت باری کا نشان ہیں۔اس آیت میں حرمت کی بہت سی اقسام کو بیان کیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میں جب چاہوں، جس وقت چاہوں اور جس زمانہ میں چاہوں کسی چیز کی حرمت اور اس کی عزت کو قائم کر دیتا