انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 93 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 93

تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث ۹۳ سورة البقرة گے اور جب تم خیر امت بنو گے اور صرف اس وقت جب تم خیر امت بنو گے تو تم اس قابل ہو گے کہ تمام بنی نوع انسان کو فائدہ پہنچا سکو تمہارے ذریعہ سے تمام اقوام اور ہر زمانہ کے لوگ دینی اور دنیوی فوائد حاصل کریں گے۔خطبات ناصر جلد اول صفحه ۶۴۹ تا ۶۵۲) ایک کامل اور مکمل ہدایت نامہ جس کے بغیر ہم حقیقی معنی میں نہ دنیوی ارتقائی منازل طے کر سکتے ہیں نہ روحانی بلندیوں تک پہنچ سکتے ہیں وہ ہمیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے دیا جا رہا ہے۔الکتب اور لا رَيْبَ فِيْهِ اس کی صفات ہیں لیکن ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ ایک ہدایت نامہ نہایت حسین تعلیم ایک ایسی شریعت جو زمین کی پستیوں سے اُٹھا کر آسمانوں کی بلندیوں تک پہنچانے والی ہے تمہارے ہاتھ میں دی جا رہی ہے لیکن یہ نہ بھولنا کہ یہ شریعت صرف ان لوگوں کو کامیابی تک پہنچانے والی ہے جو مضبوطی کے ساتھ تقویٰ کو اختیار کرتے ہیں اگر کوئی شخص بڑی نمازیں پڑھنے والا ہو، اگر کوئی شخص بظاہر اپنے مال کو مستحقین میں بڑا ہی خرچ کرنے والا ہو، اگر کسی شخص ( کی ) زبان نہایت ہی میٹھی ہو ، اگر کوئی بظاہر انتہائی ہمدردی اور خیر خواہی کرنے والا ہولیکن اگر اس کے یہ اعمال تقویٰ کی بنیادوں پر قائم نہیں کئے جاتے تو وہ اللہ تعالیٰ کے حضور قبول نہیں ہو سکتے۔اس لئے باوجود اس کے کہ مکمل ہدایت نامہ ہے پوری طرح اس پر عمل کر کے بھی اگر تقویٰ سے خالی ہو کا میابی کو تم نہیں پا سکتے کامیابی کو وہی پائیں گے جو تقویٰ کو مضبوطی سے پکڑتے ہوئے اسلامی احکام کی پابندی سدو کریں گے۔دوسری جگہ اس کی وضاحت کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللهُ مِنَ المُتَّقِينَ (المائدہ :۲۸) جو شخص تقویٰ کی باریک راہوں کو اختیار کرے گا اس کے اعمال قبولیت کا درجہ حاصل کریں گے ورنہ وہ رڈ کر دیئے جائیں گے اور اللہ تعالیٰ ان پر کسی ثواب کا فیصلہ نہیں کرے گا تو هُدًى لِلْمُتَّقِينَ میں ہمیں بتایا گیا ہے کہ وہی لوگ اس ہدایت سے فائدہ اٹھائیں گے اور اٹھانے والے ہوں گے جو اتقاء کی صفت میں استحکام اختیار کریں گے جن کا تقویٰ بڑی مضبوط بنیادوں کے اوپر قائم ہوگا ورنہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کو قبول نہیں کرے گا۔تقویٰ بھی جیسا کہ ہر دوسری چیز اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہی حاصل ہو سکتا ہے جیسا کہ سورۃ فتح ۲۷ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَالْزَمَهُمْ كَلِمَةَ التَّقوی کے تقویٰ کے طریق پر ان کے قدم کو خود اس نے مضبوط کر دیا ہے۔انسان اپنی کوشش سے اور