انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 80 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 80

تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۸۰ سورة الفاتحة میں شامل نہیں کئے جاسکتے وہ ضال کے گروہ میں شامل ہو سکتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کی اصلاح کے ذرائع تو اختیار کرے گا اور وہ انہیں سخت بھی محسوس ہوں گے لیکن اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے شروع ہی میں سورۃ فاتحہ میں ان دو گروہوں کے (درمیان) ایک فرق کر دیا یعنی ایک کو مغضوب کہا ہے اور ایک کو ضال کہا ہے یہ لوگ صراط مستقیم کو پہچانتے نہیں۔ضالین یہ سمجھتے ہیں کہ جس راستہ پر وہ ہیں بس وہی ٹھیک ہے نہ وہ خدا کو پہچانیں نہ کوئی آسمانی تعلیم ایسی ہے جس کے اوپر ان کا پختہ یقین ہے کہ وہ سمجھتے ہیں بس یہ دنیا پیدا ہوئی یا اگر ان میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو سمجھتے ہیں کہ دنیا کو اللہ نے پیدا کیا ہے مگر اتنی بڑی ہستی اور عاجزوں سے ایک زندہ تعلق قائم کیوں رکھے گی اس لئے اس کا ہمارے ساتھ کوئی زندہ تعلق نہیں غرض اپنی حماقت اپنی بیوقوفی اپنی روایات ( ہزار قسم کی وجوہات ہوسکتی ہیں ان سب وجوہات ) کے نتیجہ میں وہ راہ گم کر بیٹھتے ہیں اور اس میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ اگر یہ جماعت مؤمنین جو احیائے اسلام کے لئے پیدا کی گئی ہے ضالین کے سامنے بھٹکتے ہوئے راہی کے سامنے ہدایت پیش کرے گی تو ان سے بہت سے اسے قبول کر لیں گے کیونکہ ان کی یہ صفت بیان کی گئی ہے وہ جان بوجھ کر انشراح صدر کے ساتھ ضلالت کی راہوں کو اختیار نہیں کرتے بلکہ بھٹکے ہوئے ہیں۔ان کو صراط مستقیم کا پتہ ہی نہیں۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دعا کرتے رہو کہ کبھی ایسا نہ ہو کہ ہم میں سے کوئی فرد یا جماعت گمراہی میں کفر میں پڑکر ایک حصہ ان کا مغضوب بن جائے اور ایک حصہ ان کا ضال بن جائے یعنی ہر شخص دعا کرنے والا اپنے اور اپنوں کے لئے یہ دعا کرے کہ اے خدا میری فطرت میں شیطنت کو کبھی پیدا نہ ہونے دینا کہ میں تیری راہ کو جانتے بوجھتے انشراح صدر کے ساتھ چھوڑ نے لگ جاؤں اور نہ ایسے حالات پیدا کرنا کہ میں تیری راہ کو گم کردوں اور بھٹک جاؤں اور شیطان کی راہوں کو اختیار کرلوں۔غرض جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے متعدد جگہ تحریر فرمایا ہے سورۃ فاتحہ ایک عظیم دعا ہے اس وقت میں صرف اس چھوٹے سے ٹکڑے کا مضمون بیان کر رہا ہوں اور اس سورۃ کا یہ ٹکڑا بھی عظیم دعا ہے اور اس میں بتایا گیا ہے کہ میرے غضب سے بچنے کے لئے ہر قسم کی تدبیر اختیار کرنے کے بعد میرے حضور آؤ اور دعائیں کرو اور ضلالت کی راہوں کو اختیار کرنے سے بچنے کے لئے ہر قسم کی تدبیر اختیار کرو اور میرے پاس آؤ اور دعا کرو اگر خلوص نیت سے میرے حضور دعا کرو گے تو ضال