انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 76
تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالث ZY سورة الفاتحة اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ ایک عجیب دعا بڑی حسین اور بڑی وسعتوں اور بڑی گہرائیوں اور بڑی تاثیروں والی دعا سکھائی اور ہمیں بتایا کہ یہ دعا کرو کہ اے خدا عقل بھی ہمیں یہی بتاتی ہے ہماری فطرت بھی اسی طرف راہ نمائی کرتی ہے کہ ہر مقصود پانے کے لئے ایک سیدھی راہ ہوا کرتی ہے اور جو اس سیدھی راہ کو اختیار کرتا ہے وہی اپنے مقصود کو حاصل کرتا ہے اس لئے ہمیں وہ سیدھی راہ دکھا جو ہمیں تجھ تک پہنچا دے تو ہمیں مل جائے تیرے ساتھ ہمارا تعلق قائم ہو جائے تجھے ہم پالیں ، تیری رحمتوں کے ہم وراث بن جائیں اور بتایا کہ یہ راہ آج پہلی دفعہ انسان کو نہیں بتائی جارہی بلکہ حضرت آدم علیہ السلام سے نبوت کا ایک سلسلہ شروع ہوا اور انبیاء سے تعلق رکھنے والے بزرگ خدا کی راہ میں قربانی دینے والے، خدا کی محبت کو پانے والے پیدا ہوتے رہے پس جس طرح پہلوں پر اصولی طور پر تیرے انعام نازل ہوئے تو ہمیں ایسی راہ دکھا کہ ہم بھی ان جیسے بن جائیں اور اس قسم کے انعام ہمیں بھی تیری طرف سے ملیں۔۔۔۔۔۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ منعم علیہم گروہ کے علاوہ ایک گروہ وہ بھی ہے جو منعم علیہم نہیں اور آگے وہ دو حصوں میں منقسم ہوتا ہے ایک گروہ وہ جو مغضوب بن جاتے ہیں اور ایک جو راہ سے بھٹک جاتے ہیں مغضوب کے معنی قرآن کریم کی اصطلاح میں یہ ہیں کہ جو شخص انشراح صدر کے ساتھ کفر کو کفر سمجھتے ہوئے قبول کرتا ہے سب سے پہلا انشراح صدر اس سلسلہ میں ابلیس کو ہوا تھا اس سے کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں تھی وہ اپنے اللہ کو پہچانتا تھا، اللہ سے وہ گفتگو کر رہا تھا لیکن کہتا تھا کہ میں کفر کروں گا اور لوگوں کو بھٹکاؤں گا تیرا کہنا نہیں مانوں گا حالانکہ وہ جانتا تھا کہ اس کی سزا ملے گی خدا نے کہا تھا کہ میں تجھ سے اور تیرے ماننے والوں سے جہنم کو بھر دوں گا لیکن وہ کفر پر قائم رہا غرض مغضوب اس کو کہتے ہیں جو نا فرمانی کی راہ سمجھتا ہے جو کفر کے راستہ کو کفر کا راستہ سمجھتا ہے جو جانتا ہے کہ اگر میں نے یہ راہ اختیار کی تو اللہ تعالیٰ کا یقینی غضب مجھ پر نازل ہوگا لیکن کبھی اس کا شیطانی نفس یہ فیصلہ کرتا ہے کہ میں نے اسی راہ کو اختیار کرنا ہے اللہ تعالیٰ مغضوب کے اس مضمون کو بیان کرتے ہوئے سورہ نحل میں فرماتا ہے مَنْ كَفَرَ بِاللهِ مِنْ بَعْدِ إِيمَانِةٍ إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَ W قَلْبُهُ مُطْمَن بِالإِيمَانِ وَ لكِنْ مَنْ شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا فَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ مِّنَ اللہ۔(النحل:١٠٧)