انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 73
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۷۳ سورة الفاتحة طرح کئی لوگ ایسے ہیں کہ جو ان کے پاس ہے اسے خرچ نہیں کرتے اور خدا کو کہتے ہیں کہ اور دے۔فقیر جس کے سامنے ہاتھ پھیلاتا ہے اسے تو معلوم نہیں کہ اس کے گھر میں رات کی روٹی ہے یا نہیں۔نہ اسے یہ علم ہے کہ اس کی تجوری یا تھیلی میں پانچ دس میں پچاس لاکھ روپیہ ہے۔جب نوٹ کینسل (Cancel) ہوئے اور کہا گیا کہ پرانے نوٹ لاؤ تو بعض ایسے فقیروں کا ذکر بھی اخباروں میں آیا (واللہ اعلم کہاں تک یہ درست ہے ) جن کے پاس لاکھوں روپیہ تھا اور پھر بھی وہ بھیک مانگ رہے تھے اور دینے والا ان کو دے رہا تھا اور اس کے بھائی کے دل میں یہ جذبہ پیدا ہوتا تھا کہ بے چارہ! اس کے پاس کھانے کو کچھ نہیں۔پیسہ اس کے پاس نہیں کہیں رات کو بھوکا نہ سو جائے اس کو دے دولیکن جو ہاتھ خدا تعالیٰ کے سامنے پھیلایا جاتا ہے وہ ایک ایسی ہستی کے سامنے پھیلایا جاتا ہے جس سے کوئی چیز غائب نہیں۔خدا تعالیٰ کہتا ہے میں نے تجھے دیا اور تو نے میری راہ میں خرچ نہیں کیا۔اب میرے 999 سامنے ہاتھ کیوں پھیلا رہا ہے۔آگے اِيَّاكَ نَعْبُدُ کا مقام جو آج کے دن کا مقام ہے اسے حاصل کر۔جو کچھ میں نے تجھے دیا قوت اور طاقت اور استعداد کے لحاظ سے، جو کچھ میں نے تجھے دیا ظاہری سامانوں کے لحاظ سے اور مادی اشیاء کے لحاظ سے، جو کچھ میں نے تجھے دیا عقل اور فراست کے لحاظ سے، جو کچھ میں نے تجھے دیا قرآن عظیم جیسی ہدایت اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ کے لحاظ سے۔یہ جو تجھے چیزیں ملیں پہلے ان سے انتہائی فائدہ اٹھا۔پھر میرے پاس آ۔میرے خزانے خالی نہیں ہیں لیکن تیری ساری قوتیں میری راہ میں خرچ ہونے کے بعد میرے سامنے تیرا دست سوال پھیلنا چاہیے۔پھر انسان خرچ کرنے کے بعد یعنی ” جو کچھ ہے پورے کا پورا خدا تعالیٰ کے حضور پیش کر دینے کے بعد خدا سے کہتا ہے کہ جہاں تو نے مجھے اتنا کچھ دیا اور مجھے یہ تو فیق بھی دی کہ میں تیری راہ میں سارا کچھ خرچ کر دوں وہاں تو نے مجھے یہ جذبہ اور جوش بھی دیا کہ میں کسی مقام سے تسلی نہ پکڑوں کیونکہ تیرے قرب کے مقامات کی کوئی انتہا نہیں۔آگے بڑھنے کے لئے میرے رب مجھے اور دے۔پھر جب ايَّاكَ نَعْبُدُ کے بعد مخلصانہ دعا ايَّاكَ نَسْتَعِينُ کی ہوتی ہے تب خدا تعالیٰ اسے اور قوت دیتا ہے اور تب خدا تعالیٰ اسے جو قوت دیتا ہے اسے لے کر وہ آگے بڑھتا ہے پھر ایک اعلیٰ مقام پر کھڑا ہوتا ہے پھر کہتا ہے اے خدا! تو نے مجھے جو طاقتیں دیں وہ تیری راہ میں خرچ ہو گئیں اب مجھے اور دے کیونکہ جو طاقتیں ملیں ان کے خرچ کرنے پر تو ایک جیسا ثواب ملتا رہے گا۔اگر مجھے مزید ثواب ملتا ہے