انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 71
تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالث اے سورة الفاتحة کو ایک طرف ان تمام نقائص اور کمزوریوں سے محفوظ رکھنے کا سامان پیدا کیا گیا جو اس کی کوششوں کو بے نتیجہ اور بغیر شمر کے بنادیتی ہیں اور دوسری طرف خدا تعالیٰ کی انگلی پکڑ کر انتہائی کامیابی تک پہنچانے کے اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ میں سامان پیدا کر دئیے۔یہ مضمون بیان کرنے کے بعد آخر میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کچھ تفصیل اور فروعی ذمہ داریوں کی طرف ہمیں توجہ دلائی ہے۔وہ چند ہدایات میں پڑھ دیتا ہوں۔یہ ان باتوں کا ایک قسم کا خلاصہ ہے جو باتیں میں نے بیان کی ہیں۔(ترجمہ) اس آیت میں یہ اشارہ بھی ہے کہ کسی بندہ کے لئے ممکن نہیں کہ اُس وَحْدَهُ لا شَرِيكَ سے تو فیق پانے کے بغیر عبادت کا حق ادا کرے اور عبادت کی فروع میں یہ بھی ہے ( میں نے بتایا تھا کہ آپ نے یہاں عبادت کی فروع بتائی ہیں ) کہ تم اُس شخص سے بھی جو تم سے دشمنی رکھتا ہو ایسی ہی محبت کرو جس طرح اپنے آپ سے اور اپنے بیٹوں سے کرتے ہو اور یہ کہ تم دوسروں کی لغزشوں سے درگزر کرنے والے اور ان کی خطاؤں سے چشم پوشی کرنے والے بنو اور نیک دل اور پاک نفس ہو کر پرہیز گاروں والی صاف اور پاکیزہ زندگی گزارو اور تم بری عادتوں سے پاک ہو کر باوفا اور باصفا زندگی بسر کرو اور یہ کہ خلق اللہ کے لئے بلا تکلف اور تصنع بعض نباتات کی مانند نفع رساں وجود بن جاؤ اور یہ کہ تم اپنے کبر سے اپنے کسی چھوٹے بھائی کو دُکھ نہ دو اور نہ کسی بات سے اس (کے دل ) کو زخمی کرو بلکہ تم پر واجب ہے کہ اپنے ناراض بھائی کو خاکساری سے جواب دو اور اسے مخاطب کرنے میں اس کی تحقیر نہ کرو اور مرنے سے پہلے مرجاؤ اور اپنے آپ کو مردوں میں شمار کر لو اور جو کوئی ( ملنے کے لئے ) تمہارے پاس آئے اس کی عزت کرو خواہ وہ پرانے بوسیدہ کپڑوں میں ہو نہ کہ نئے جوڑوں اور عمدہ لباس میں اور تم ہر شخص کو السلام علیکم کہو خواہ تم اسے پہچانتے ہو یا نہ پہچانتے ہو اور (لوگوں کی ) غم خواری کے لئے ہر دم تیار کھڑے رہو۔(اجاز مسیح - روحانی خزائن جلد نمبر ۱۸ صفحه ۱۲۸، ۱۶۹) پس میں نے مختصر آ ہی تین اصولی باتیں بیان کی تھیں۔ایک یہ کہ ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم ہر آن یہ کوشش کرتے رہیں کہ تخلق باخلاق اللہ کرنے والے ہوں اور اللہ تعالیٰ کی صفات کے رنگ سے ہمارا وجود رنگین ہو اور ریا کاری ہماری زندگی میں داخل نہ ہو۔دوسرے یہ کہ ہم یہ دُعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے اُن رحمانیت کے جلووں سے ہمیں نوازے جن کی ہمیں ذاتی جدوجہد کے لئے