انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 70
تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث سورة الفاتحة کے اخلاق بنتے ہیں۔بہر حال اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کی دُعا کو ٹھیک طرح سمجھ لینا اور اس کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھالنا یہ چیز تکبر کو بالکل مٹادیتی ہے کیونکہ انسان کو پتہ ہے کہ میں کچھ بھی نہیں کر سکتا۔کسی میدان میں بھی میری کوئی حرکت آگے نہیں بڑھ سکتی جب تک اس حرکت سے پہلے خدا تعالی کی رحمانیت کے جلوے موجود نہ ہوں لیکن خدا تعالیٰ کی عظمت و جلال بھی ہو اور رحمانیت کی صفت کو بھی انسان پہنچانے تو پھر بھی خود اپنے لئے اپنی کوشش سے راہ راست اور صراط مستقیم تلاش نہیں کر سکتا۔اس میں بھی اُسے خدا تعالیٰ کی مدد کی ضرورت ہے۔جس کے بغیر وہ راہ راست پر چل نہیں سکتا۔راستہ پر تو وہ چلنا شروع کر دے گا لیکن وہ صرف ”صراط “ ہو گا صراط مستقیم نہیں ہو گا۔راستہ پر اس لئے چلے گا 66 کہ اللہ تعالیٰ کی صفات کے جلوے اس پر ظاہر ہوئے اور صفت رحمانیت کے جلوے ظاہر ہوئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کا تعلق رحمانیت سے ہے اور نیکوں کی کوششوں کو نقص سے پاک کرنا اور اچھے نتائج نکالنا یہ رحمانیت کا کام ہے۔انسان خواہ کتنا ہی جہاد خدا کی راہ میں کر رہا ہو اور محاسبہ نفس کر رہا ہو اس کے اعمال میں تھوڑا یا بہت نقص رہ جاتا ہے اور عام قانون یہ ہے کہ تھوڑا یا بہت نقص رہ جائے تو انسان منزلِ مقصود تک پہنچ نہیں سکتا مثلاً ایک موٹی مثال میں اس وقت دیتا ہوں جسے بچے بھی سمجھ جائیں گے کہ ایک شخص نے سو قدم چل کر وہاں پہنچنا ہے جہاں اُس کا مقصود اُ سے حاصل ہو سکتا ہے۔اگر وہ نانو سے قدم چلے اور سواں قدم نہ چلے تو وہ منزل مقصود تک نہیں پہنچ سکتا۔تو صرف ایک قدم کی کمی ہے نانوے قدم اُس نے اُٹھائے ہیں لیکن ایک قدم نہیں اُٹھا سکا اس لئے وہ اپنے مقصود کو نہیں پاسکتا۔پس ہر انسان کی کوشش اور عملِ صالح میں کوئی نہ کوئی کمی اور غفلت رہ جاتی ہے۔اس وقت رحمانیت آتی ہے اور انسان کی انگلی پکڑتی ہے اور کہتی ہے جو قدم تو نے نہیں اُٹھا یا وہ میں تمہیں اُٹھا دیتا ہوں اور اُس کے عمل صالح کی کفیل ہو جاتی ہے۔اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ میں یہی دُعا سکھائی ہے کہ وہ سیدھا راستہ ہمیں دیکھا جو منزل مقصود تک پہنچانے والا ہو۔جس کا مطلب ہے کہ سارے قدم اور ساری کوششیں انتہا تک پہنچانے والی ہمیں نصیب ہوں۔اس کے بغیر تو کوئی دو قدم سیدھا چل کر، کوئی نہیں قدم سیدھا چل کر ، شاید کوئی ننانوے قدم سیدھا چل کر بھی اپنے عمل کے نتیجہ سے محروم ہو جاتا ہے پس یہاں بتائی گئی تین دعاؤں کے نتیجہ میں انسان