انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 61
تفسیر حضرت خلیفة امسح الثالث บ سورة الفاتحة ہمارے اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے طفیل حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانی تا شیروں نے اس انتہائی جوش کی حالت میں آئندہ زمانوں کے لئے بہت سے اسرار کھول کر ہمارے سامنے رکھ دیئے اور جن کا ابھی وقت نہیں آیا تھا۔اُن کے لئے یہ سامان پیدا کر دیئے کہ ان کا سمجھنا نسبتاً آسان ہو جائے کیونکہ ایک حد تک تفسیر ہو چکی ہے اور ایک حد تک باقی ہے۔بہر حال اس وقت اس قرآن عظیم کی تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور آپ کے خلفاء کی کتب میں پائی جاتی ہے اگر ہم قرآن عظیم سے دین اور دنیا کی خیر حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم اس نعمت کی قدر کریں اگر ہم قرآن کریم کی ہدایتوں کی طرف متوجہ نہ ہوں گے اگر ہم قرآن کریم کے احکام کی پابندی نہیں کریں گے اگر ہم قرآن کریم سے اس قسم کا عشق نہیں کریں گے تو ہمیں دین اور دنیا کی بھلائی کس طرح مل سکتی ہے؟ ہمیں اس نعمت کی حتی المقدور قدر کرتے رہنا چاہیے تا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانی تاثیرات سے ہمیں بھی کتاب مکنون کا حصہ ملتا ر ہے جو ہماری زندگی کی پریشانیوں کو دور کرنے والا اور اُلجھنوں کو سلجھانے والا ہو۔پس اگر ہم مبین والے حصے کی جو دراصل ایک عظیم نعمت ہے جو ہمیں دی گئی ہے اس کی قدر نہ کریں اور اس سے فائدہ نہ اُٹھا ئیں تو ہماری دعائیں قبول نہیں ہوں گی۔اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ میں اس طرف اشارہ کیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے جو کچھ تمہیں دیا ہے پہلے اُس کی قدر کرو یعنی اُسے پورا پورا استعمال کرو اور اس سے کما حقہ، فائدہ اُٹھاؤ۔پھر میرے پاس آؤ اور کہو اے خدا! تو نے ہماری فطرت میں ایک غیر محدود Urge ( خواہش ) ایک جذبہ اور ایک شوق رکھا ہے۔ہم پہلوں سے جو حاصل کر سکتے تھے وہ ہم نے حاصل کیا اب ہم دعا کرتے ہیں کہ تو اپنے فضل سے ہم پر مزید ترقیات کے دروازے کھول دے اور ہمیں قرآن عظیم کے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی اور قربانیاں دینے اور ایثار دکھانے کی توفیق عطا فر مالیکن اگر ہم پر جو عطا ہو چکی ہے جو کچھ ہمیں مل چکا ہے ہم اس کی قدر نہ کریں اُس کا صحیح استعمال نہ کریں۔اُس سے پورا فائدہ نہ اُٹھا ئیں تو ہماری دعا رد کر دی جائے گی۔اس قسم کی دعا ہمارے منہ پر مار دی جائے گی کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو میں نے تمہیں دیا ہے اس کی تو تم نے صحیح قدر نہیں کی اور اس سے تو تم نے پورا فائدہ نہیں اُٹھایا اب جس چیز کو مجھ سے مانگ رہے ہو اس سے تم کیسے فائدہ حاصل کرو گے یا فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کیسے کر سکو گے؟ پس