انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 54
تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالث ۵۴ سورة الفاتحة آپ نے مسکرا کر دیکھا اور فرمایا تم ان سے جا کر پوچھو ان ابتلاؤں اور امتحانوں کو ( جودشمن کی نگاہ میں دُکھ اور تکلیف کا موجب ہیں ) دکھ اور تکلیف سمجھتے ہیں یا ان میں نہایت لذت اور سرور پاتے ہیں۔جب وہ اسے تکلیف ہی محسوس نہیں کرتے تو تم اسے تکلیف کیوں کہتے ہو۔پس یہ خدا کی چار صفات ہیں جو اصول کے طور پر سورۃ فاتحہ میں بیان ہوئی ہیں۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس لئے پیدا کیا کہ وہ ان چار صفات کا مظہر بنے اور اپنی زندگیوں پر ان کا رنگ چڑھائے۔اللہ تعالیٰ نے دنیا میں ایک عملی نمونہ پیش کرنے کے لئے اپنے پیارے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خلق کیا اُن کی اُنگلی پکڑی۔ان کا ساتھی اور دوست بنا۔ان سے پیار کرنے والا بنا۔اُن کو اپنا محبوب بنایا۔خود اُن کا محبوب بھی بنا اور اس طرح گویا ایسے حالات پیدا کر دیئے کہ اس عالمین کی یا ان افلاک کی جو غرض تخلیقی تھی وہ پوری ہو جائے۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کے سامنے اپنا عمدہ نمونہ پیش کیا اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی صفات کا مظہر بنانے کے لئے تمہارے سامنے جو نمونہ رکھا ہے۔اس میں کوئی خامی کوئی کمزوری اور کوئی نقص نہیں ہے۔جو صفات باری کا مظہر اتم اور مظہر اکمل ہے اور وہ ایک کامل اور مکمل اُسوہ حسنہ بن کر تمہارے سامنے آیا۔اس اُسوہ حسنہ کے مطابق جو تمہیں قومی دیئے گئے۔تعبد ابدی کے لئے اور اللہ تعالیٰ کی صفات کا مظہر بننے کے لئے ان کی نشو و نما کو کمال تک پہنچاؤ۔خدا تعالیٰ کی صفات کے حسن و احسان کے جو جلوے خدا کی صفات اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات میں نظر آتے ہیں وہ حسن و احسان کے جلوے تمہاری زندگیوں میں بھی نظر آئیں۔تم رب بھی بنو خدا کے فضل اور اُس کی دی ہوئی توفیق سے اپنے اپنے دائرہ استعداد کے اندر اندر اور اس طرح رحمان بھی بنور حیم بھی بنو اور مالک یوم الدین بھی بنو اور خدا تعالیٰ نے تمہارے لئے جو دائرہ مقرر کیا ہے اس کے اندر رہو گے تو میری رضا کی جنتوں میں میری رضا کے ماحول میں رہو گے۔باہر نکلو گے تو جہنم میں جا پڑو گے۔اس لئے باہر نہ نکلنا۔اپنے اپنے دائرہ میں اپنی زندگی گزارو۔آپ کے سارے پروگرام، آپ کے سارے کام اور سارے فیصلے اور ساری تمنائیں اور دعائیں اور آپ کی زندگی کے سارے پہلو اسی حقیقت کے غماز ہونے چاہئیں حتی کہ آپ کے آخری لمحات میں بھی یہ حقیقت نظر انداز نہیں ہونی چاہیے جب کہ انسان موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کھڑا ہوتا ہے اور خدائے رحمان سے کہتا ہے یا خدائے رحیم سے