انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 53
تفسیر حضرت خلیفۃ المسح الثالث ۵۳ سورة الفاتحة کسی کی بیوی غفلت کر جائے تو غصہ میں نہیں آنا۔پچھلے دنوں مجھے بڑا ڈکھ پہنچا جماعت کے ایک کارکن کی بیوی آپا مریم صدیقہ اور منصورہ بیگم کے پاس آئی اور بتایا کہ اُس کے خاوند نے اسے اتنی بے رحمی سے مارا ہے کہ اس کا سارا جسم نیلا ہوا ہوا ہے۔تم خدا کی طرف اور اس کے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اور اس کے محبوب مہدی کی طرف منسوب ہوتے ہو۔تمہارے کان میں تو یہ آواز پڑ رہی ہے کہ مالکیت یوم الدین کی صفت کے مظہر ہو لیکن اپنے نفس کے جوش سے ظلم اور وحشت کا مظاہرہ کرتے ہو۔احباب جماعت ایسے لوگوں کے لئے دُعا بھی کریں۔پس مالکیت یوم الدین کا بنیادی تقاضا یہ ہے کہ نفس کے سارے جوش ٹھنڈے ہو جائیں۔سوچو اور غور کرو۔بعض دفعہ جوش آ بھی جاتا ہے۔اس قسم کی کیفیت فطرتی لازمہ ہے۔مثلاً کہیں جلسہ ہو رہا ہے۔وہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو گالیاں دی جا رہی ہیں۔ایک وقت میں غیر ملکوں میں اسلام کے خلاف سخت گندے اعتراض کر دئیے جاتے تھے۔دنیا کے ایک حصے میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دی گئی اور گندہ اعتراض کیا گیا اور دنیا کے دوسرے حصہ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب مہدی معہود علیہ السلام کو گالیاں دی گئیں اور گندے اعتراضات کر دیئے گئے۔جہاں بھی یہ اعتراض ہو وہاں ہمارے نفس جوش میں نہیں آنے چاہئیں۔خدا تعالیٰ کے ایک بندے کی روح میں وہ رد عمل پیدا ہونا چاہیے کہ خود خدا کہے کہ میرا بندہ میرا محبوب ہے یہ غلط قدم نہیں اٹھاتا۔گالیوں میں گالیاں ملا کر گند اور عفونت کی آواز کو ہم نے بلند نہیں کرنا بلکہ گالیوں کے گندے شعلوں کو اپنے آنسوؤں اور دعاؤں سے بجھانے کی کوشش کرنی ہے۔اس کے لئے ہم پیدا کئے گئے ہیں۔یہی ہماری زندگی ہے۔یہی ہماری روح ہے اور یہی ہمارا شعار ہے۔اس کے بغیر تو کوئی زندگی نہیں ہے۔اگر ہم نے قرآن کریم کو چھوڑ دینا ہے۔اگر ہم نے اس سے کوئی پیار نہیں کرنا۔اگر ہمارے دل میں مہدی معہود کے لئے کوئی پیار نہیں تو کیا کرنا ہے زندہ رہ کر۔اگر خدا سے دور ہی رہنا ہے تو پھر زندگی کا کوئی مزہ نہیں ہے۔مزہ تو اس میں ہے کہ خدا کہے کہ تکلیفیں برداشت کرو۔ہم ان تکلیفوں کو برداشت کریں اور ہمیں پتہ یہ لگے کہ ان میں خدا نے ہمارے لئے سرور پیدا کر دیا ہے۔ایک دفعہ خدا حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کسی نے سوال کیا کہ جن لوگوں کو آپ خدا کے پیارے اور محبوب کہتے ہیں اُن پر دُکھ کیوں آتے ہیں ان پر ابتلاء کیوں نازل ہوتے ہیں۔آپ چونکہ خود صاحب تجربہ تھے