انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 576
تغییر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۵۷۶ سورة النساء انسان کو دیوٹی کی طرح کھینچتی ہو یا دیوٹی اس کو مستلزم ہو بلکہ رذائل سے بچانے والی، گندگی سے نجات دلانے والی اور عزت کے مقام پر کھڑا کرنے والی تعلیم ہے جو برائیوں سے روکتی ہے۔ایک کامل تعلیم منہیات کے متعلق نہ کر کے متعلق ہمیں اسلام میں نظر آتی ہے۔پانچویں خصوصیت اسلامی تعلیم میں ہمیں یہ نظر آتی ہے کہ اس میں کوئی ایسی تعلیم نہیں جو فطرتی حیا اور شرم کے مخالف ہو۔انسان کی فطرت میں شرم اور حیا ہے لیکن دنیا اپنی عادتوں کی وجہ سے یا دنیا اپنے ماحول کی وجہ سے بدقسمتی سے اس فطرتی حیا اور شرم کے مخالف عادات اپنے اندر پیدا کر لیتی اور ذلت کا چولہ پہن لیتی ہے اور فطرتی حیا اور شرم کو ماردیتی اور کچل دیتی ہے اور اس کا کوئی ذرہ بھی باقی نہیں رہنے دیتی لیکن اسلام میں کوئی ایسی تعلیم نہیں جو فطرتی حیا اور شرم کے مخالف ہو بلکہ اسلام کی ساری تعلیم فطرتی حیا اور شرم کے عین مطابق اور فطرتی حیا اور شرم کی تکمیل کے لئے صراط مستقیم دکھانے والی ہے۔چھٹی خصوصیت اسلام میں یہ ہے کہ اس میں کوئی ایسی تعلیم نہیں جو خدا تعالیٰ کے عام قانون قدرت کے مخالف پڑی ہو۔قوانین قدرت اور انسانی فطرت میں، انسان کے اندر اللہ تعالیٰ نے جو قوتیں اور استعداد میں اور صلاحیتیں رکھی ہیں ان میں کوئی تضاد نہیں ہے کوئی مخالفت نہیں ہے۔قانونِ قدرت اور انسانی فطرت میں اسلام نے کامل مطابقت پیدا کی ہے اور اس کی بنیاد یہ رکھی کہ خدا تعالیٰ نے اسلام میں ہمیں یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے انسانی فطرت کو وہ تمام طاقتیں دے دی ہیں جو اس کی تکمیل کے لئے ضروری تھیں۔تکمیل اسلام میں دو معنی میں استعمال ہوئی ہے ایک نوع انسانی کی تکمیل، اس کی پیدائش کی غرض یہ ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرے اور خدا تعالیٰ کے پیار کی جنتوں میں داخل ہو اور دوسرے ہر فرد واحد کی تکمیل، ہر فرد کا دائرہ استعداد دوسرے سے مختلف ہے۔غرض ہر فرد کی تکمیل بھی کی اور نوع انسانی کی تکمیل بھی کی یعنی اسلام نے فطرت انسانی کی تکمیل کی اور فطرت انسانی کی تعمیل کرنے کے بعد محمد صلی اللہ علیہ وسلم جیسا وجود بطور اسوہ کے ہمارے سامنے پیش کر دیا۔ساتویں خصوصیت اسلام کی تعلیم میں یہ ہے کہ اس میں کوئی ایسی تعلیم نہیں جس کی پابندی کرنا ممکن ہی نہ ہو یا جس کے نتیجہ میں خطرات کا امکان ہو مثلاً ہمیں پانچ وقت مسجد میں جا کر نماز پڑھنے کا حکم ہے لیکن انسانی زندگی میں بیماری کی بعض ایسی حالتیں ہوتی ہیں کہ مسجد میں جا کر نماز نہیں پڑھ سکتا تو