انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 575 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 575

تغییر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۵۷۵ سورة النساء رحمت وغیرہ کے متعلق ایک جامع بیان ہمیں قرآن کریم نے دیا ہے اور جب ہم قرآن کریم کے اس بیان پر غور کرتے ہیں اور اس تعلیم کو مد نظر رکھتے ہیں کہ اس عظیم ہستی ، اس صاحب عظمت و جلال ہستی کے ساتھ ہم عاجز بندے ہوتے ہوئے کیسے اپنا تعلق قائم کر سکتے ہیں تو ہمارے لئے وہ صراط مستقیم کھلتا ہے جو خدا تعالی کی طرف لے جانے والا ہے۔اسلامی تعلیم ہدایت و شریعت کی خصوصیات کا دوسرا حصہ انسانوں کے حقوق سے تعلق رکھتا ہے۔اس میں سب سے پہلے تو انسان کا اپنا نفس ہے اور سب سے مقدم اس کا اپنا نفس ہے۔جہاں تک ہدایت پانے اور خدا تعالیٰ کے قہر سے محفوظ ہونے کا تعلق ہے ہر ایک کو اپنی فکر کرنی چاہیے۔اس فکر کے بعد پھر اپنے ساتھیوں کی اپنے ہمسایوں کی اپنے خاندان کی اور دوسروں کی فکر کرنی چاہیے۔جو شخص خود دوزخ میں جارہا ہو وہ دوسروں کو جنت کی طرف تو نہیں لے جاسکتا۔بڑی مفصل تعلیم اور بڑی حسین تعلیم ہمیں اسلام نے دی ہے اور ہمارے حقوق کو قائم کیا ہے۔مثلاً قرآن کریم نے ایک جگہ فرما یالا يَضُرُكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ (المائدة : ١٠٢) کہ ہدایت پانے کے لحاظ سے تمہارا نفس تمہیں ہر دوسرے پر مقدم ہونا چاہیے۔پہلے اپنے نفس کی فکر کرو اس کے بعد پھر دوسروں کی فکر کرنا۔یہ تو میں نے ایک مثال دی ہے ورنہ قرآن کریم نے ہر شخص کے حقوق قائم کرنے کے بعد ان کی حفاظت کا سامان کیا ہے تو خصوصیات کے اس دوسرے گروہ میں نمبر ایک انسان کا اپنا نفس ہے۔دوسرے نمبر پر ہمیں یہ نظر آتا ہے کہ اسلام نے عام طور پر انسانی چال چلن کے بارہ میں جو تعلیم دی ہے وہ نہایت حسین تعلیم ہے، ایسی کہ اسلام سے پہلے نہ کسی مذہب نے ایسی تعلیم دی اور نہ کسی فلاسفر اور حکیم نے ایک حد تک حکمت کی گہرائیوں میں جانے کے باوجود اس قسم کی تعلیم دنیا کے سامنے رکھی۔عجیب تعلیم ہے، بڑی عظیم تعلیم ہے عام انسانی چال چلن کے متعلق کہ ایک انسان کا چال چلن کس قسم کا ہونا چاہیے۔- تیسری خصوصیت اسلام میں یہ ہے کہ کوئی ایسی تعلیم اس میں نظر نہیں آتی جو انسانی حقوق کے باہمی رشتہ کو توڑتی ہو بلکہ انسانی حقوق کے باہمی رشتہ کو جوڑنے والی تعلیم ہے، ان کو پختہ کرنے والی تعلیم ہے، ان میں پیار پیدا کرنے والی تعلیم ہے، ان میں حسن پیدا کرنے والی تعلیم ہے۔خصوصیات کے اس گروپ میں سے چوتھی خصوصیت یہ ہے کہ اسلام میں کوئی ایسی تعلیم نہیں جو