انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 574 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 574

۵۷۴ سورة النساء تغییر حضرت خلیفة لمسیح الثالث اعمال کے اندر کوئی شیطانی کیڑاگھن کی طرح نہ لگا ہوا ہو اور دلیری اور جرأت کے ساتھ اظہار کی اسے اللہ تعالیٰ سے توفیق ملتی رہے۔وَاعْتَصَمُوا بِہ میں جو حفاظت کا ذکر ہے عربی کے لحاظ سے اس کے یہ معنی کئے گئے ہیں کہ وہ یہ دعا کرے کہ اللہ تعالٰی ہماری استعدادوں میں نور پیدا کر کے ، ہمارے جسم اور نفس کو فضائل سے مزین کر کے، اپنی نصرت ہمارے شامل حال کر کے ہمیں ثبات قدم عطا فرما کر ہم پر آسمانی سکینت نازل فرما کر، ہمارے قلب و ذہن کو شیطانی وساوس سے بچا کر ہمیں اپنی اطاعت اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں نیکیوں اور اعمال صالحہ بجالانے کی توفیق عطا کر کے ہماری حفاظت کرے۔یہ عصمت کے معنی ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم صحیح عقائد رکھتے ہو گے اور اعمالِ صالحہ بجالاتے ہوگے اور دلیری سے اپنے ایمان پر قائم ہو گے اور دعاؤں سے اللہ تعالیٰ کی حفاظت کو اور اس کی عصمت کو حاصل کرنے والے ہو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی رحمت میں داخل کرے گا اور اس کے فضل تم پر نازل ہوں گے اور تمہیں ایک ایسی راہ دکھائے گا جو سیدھی اس کی طرف لے جانے والی ہے ، صراط مستقیم ہے جو خدا تعالیٰ تک پہنچا دیتی ہے اور اس کے بعد خدا تعالیٰ کا قرب حاصل ہو جاتا ہے۔یہ صراط مستقیم جو خدا تعالیٰ کی طرف لے جانے والی ہے یہ دین اسلام ہے۔اسی لئے دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں نے دین کو کامل کر دیا اور اپنی نعمت کو پورا کر دیا اور تمہارے لئے اسلام کو بھیج کر، اسلامی تعلیم اور ہدایت کو بھیج کر میں خوش ہوں اور تمہارے لئے دین کے طور پر میں نے اسلام کو پسند کیا ہے۔جب ہم اسلام پر یعنی قرآن کریم کی جو تعلیم ہے قرآن کریم کی جو ہدایت ہے قرآن کریم کا جو تفصیلی بیان ہے اس پر غور کرتے ہیں تو ہمیں اسلام میں مندرجہ ذیل خصوصیات نظر آتی ہیں ان خصوصیات کو ہم تین گروہوں میں تقسیم کر سکتے ہیں۔پہلے نمبر پر اسلامی تعلیم ، ہدایت اور شریعت کی وہ خصوصیات ہیں جن کا تعلق عرفان باری تعالیٰ کے ساتھ ہے۔اسلام ایک ایسا مذہب اور ایک ایسی کامل تعلیم ہے جس نے ہمیں اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کی معرفت عطا کی ہے اور کھول کر بتایا ہے کہ اسلام کو بھیجنے والا اللہ اپنی ذات کے لحاظ سے اور اپنی صفات کے لحاظ سے کس قسم کا وجود ہے، بڑی وضاحت سے بتایا گیا ہے۔توحید باری تعالیٰ کے متعلق، اس کے قادر ہونے کے متعلق، اس کے عزیز اور حکیم ہونے کے متعلق، اس کی سزا اور اس کی