انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 52 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 52

تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۵۲ سورة الفاتحة دائرہ استعداد میں کمال کو پہنچانی چاہیے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ لوگ جو ٹھیک کام کرنے والے ہیں ان کے کام کی تکمیل میں اُن کی مدد کرنا ضروری ہے۔صفت رحمانیت کے زیادہ ظاہری جلوے وہاں عیاں ہوں گے جہاں یہ جلوہ ظاہر ہورہا ہے۔اس کا جماعت سے تعلق نہیں اور رحیمیت کا جلوہ تَعاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوى (المائدة: (۳) کے ماتحت ظہور پذیر ہوگا۔کوشش کرو کہ جو نیک کوشش میں مصروف ہے وہ اپنے مطلوب کو حاصل کر لے۔یعنی اپنی زبان میں احمدیت کی زبان میں یا اسلام کی زبان میں بات کریں تو کوشش کرو کہ تمہاری نوجوان نسل جو اس لئے پیدا کی گئی ہے کہ ساری دنیا میں اسلام کو غالب کرے ان کی تربیت درست ہو اور وہ جو کوشش کر رہے ہیں اس میں تم ان کے مددگار بنو اور ان کا ہاتھ بٹاؤ۔ان کے ساتھ چلو۔ان کی رہنمائی کرو اور ان سے پیار کرو اور ایسا پیار کہ اس دُنیا میں اس سے زیادہ پیارا نہیں کہیں نظر نہ آئے۔وہ سمجھ جائیں اور یہ حقیقت پہچان جائیں کہ وہ کس غرض کے لئے پیدا کئے گئے ہیں۔یادرکھو اپنے مطلوب کو حاصل کرنے کا ایک ہی ذریعہ ہے۔اپنی کوشش اور اپنے بھائی کی مدد اور اس کا ساتھ دینا۔اس طرح کرنے سے ہم صفت رحیمیت کے مظہر بن جائیں گے اور جماعت کو ایک بنیان مرصوص یعنی سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح بنا دیں گے۔اس لئے نہیں کہ اس سے میں نے یا آپ نے کوئی ذاتی فائدہ اُٹھانا ہے بلکہ اس لئے کہ ہم میں سے ہر ایک شخص اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرے اور وہ اس عظیم ہستی کی عظیم فوج کا ایک سپاہی بن جائے۔جس کے ذریعہ سے دنیا کے گھر گھر میں اللہ تعالیٰ کے نور کے چراغ روشن ہوئے ہیں اور جن مکانوں کے او پر محمدصلی اللہ علیہ وسلم کا لوائے حمد لہرایا جانا ہے۔پھر جماعت کو مالکیت یوم الدین کا بھی مظہر بننا ہے۔ہم اس کی بھی کوشش کرتے ہیں۔ساری جماعت مل کر کوشش کرتی ہے۔اسے ہر وقت سامنے رکھنا چاہیے۔کوئی فیصلہ نفس کے جوش سے نہیں کرنا چاہیے ہر فیصلہ اللہ تعالیٰ کی منشاء اور اسلامی تعلیم کے مطابق ہونا چاہیے اور اس فیصلہ سے فضائی فیصلہ مراد نہیں ہے۔اس فیصلہ سے ثالثی فیصلہ مراد نہیں ہے۔بلکہ ہر کام کے کرنے سے پہلے جو فیصلہ کیا جاتا ہے وہ فیصلہ مراد ہے۔صبح سے لے کر شام تک آپ کا جو وقت گذرتا ہے۔اس میں آپ اس قسم کے سینکڑوں فیصلے کرتے ہیں۔مثلاً آپ نے بچوں کے ساتھ کیا سلوک کرنا ہے۔ان میں سے ہر ایک سے بوجہ طبیعتوں کے اختلاف کے علیحدہ علیحدہ سلوک کرنا ہے۔آپ نے یہ فیصلہ کرنا ہے کہ اگر مثلاً