انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 572 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 572

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۵۷۲ سورة النساء سو کی سوا کائی وہی سکھا سکتا ہے جو خودسوا کائی کا علم رکھتا ہو۔پس عَلَيْكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ وَ كَانَ فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكَ عَظيماً میں اللہ تعالیٰ نے دنیا کو یہ بتایا کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر علم کے میدان میں ( علم روحانی لیکن علم جسمانی کے اصول بھی اسی علم روحانی کے نیچے آتے ہیں ) جتنا فضل حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ہوا اتنا کسی اور پر نہیں ہوا۔جس قدر انسان کو علم روحانی کی ضرورت تھی وہ سب آپ کو سکھایا گیا اور آپ کے طفیل نوع انسانی اس قابل ہوئی کہ اگر وہ کوشش اور ہمت سے کام لے تو اپنے اپنے ظرف کے مطابق اپنی علمی استعدادوں کو کمال تک پہنچا سکتی ہے۔خطبات ناصر جلد سوم صفحه ۶۴ تا ۶۶ ) اِنَّ الْمُنْفِقِينَ فِي الدَّرُكِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ وَ لَنْ تَجِدَ نَصِيرًات لَهُمْ تیسرا ایک اور محاذ ہے جس کا ذکر شروع میں ہی اللہ تعالیٰ نے کیا ہے اور پھر مختلف صورتوں میں کافی لمبی بحث بھی اس مسئلہ پر قرآن کریم نے کی ہے اور وہ ہے نفاق کا محاذ ، سورۃ بقرہ کے شروع میں ہی نفاق کے متعلق جب بحث ہوئی ہے تو بہت سی آیتوں میں زیادہ تفصیل سے بات کی گئی ہے کیونکہ نفاق ایک ایسی بیماری ہے جس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو سز املتی ہے اتنی بڑی سزا کسی اور گناہ کے نتیجہ میں نہیں ملتی۔قرآن کریم نے کہا ہے۔إِنَّ الْمُنْفِقِينَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ یعنی جو سزا خدا کے حضور منافق کے لئے مقدر ہے وہ مشرک کے لئے بھی مقدر نہیں ، کافر کے لئے بھی مقدر نہیں۔( خطبات ناصر جلد دوم صفحه ۳۵) ياَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَكُمُ الرَّسُولُ بِالْحَقِّ مِن رَّبِّكُمْ فَأمِنُوا خَيْرًا تَكُم - b ط وَ اِنْ تَكْفُرُوا فَإِنَّ لِلهِ مَا فِي السَّمَوتِ وَ الْاَرْضِ وَ كَانَ اللهُ عَلِيمًا حَكِيمًا (141) قرآن کریم نے یہ اعلان کیا۔فَمَنْ شَاءَ فَلْيُؤْ مِن اور یہ بھی اعلان کیا فَا مِنُوا خَيْرًا نَّكُمْ یعنی تمہیں اختیار تو ہے کہ تمہاری مرضی ہو تو ایمان لاؤ اور مرضی ہو تو نہ لاؤ لیکن یہ بھی تمہیں بتادیا جاتا ہے کہ تمہاری