انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 565 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 565

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث سورة النساء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس آیت کی تفسیر میں جو باتیں فرماتے ہیں ان میں سے دو ایک یہ ہیں۔آپ فرماتے ہیں کہ جیسے لغزش اور گناہ نفوس ناقصہ کا خاصہ ہے۔۔۔۔خدا کا ازلی اور ابدی خاصہ مغفرت و رحم ہے یعنی جب کبھی کوئی بشر بر وقت صد در لغزش و گناه به ندامت و تو به خدا کی طرف رجوع کرے تو وہ خدا کے نزدیک اس قابل ہو جاتا ہے کہ رحمت اور مغفرت کے ساتھ خدا تعالیٰ اس کی طرف رجوع کرے۔۔۔۔یہ خدائے تعالیٰ کی ذات 66 میں خاصہ دائمی ہے (براہین احمدیہ۔روحانی خزائن جلد اول صفحہ ۱۸۷ حاشیه ) یعنی ایک ہزار بار بھی وہ غلطی اور گناہ کرتا ہے اور ایک ہزار بار اگر اس کے دل میں ندامت پیدا ہوتی ہے اور خدا کی طرف وہ رجوع کرتا ہے تو ایک ہزار بار وہ بخشا جاتا اور خدا کی مغفرت کے نیچے ڈھانپ دیا جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس سلسلے میں جو مختلف قومی کے ساتھ مختلف انسانوں کو پیدا کیا گیا ہے مثال آپ نے یہ دی ہے کہ طبائع انسانی جواہر کانی کی طرح مختلف الاقسام ہیں۔کان معدنیات سے جو چیزیں نکلتی ہیں نا ، وہ مختلف ہیں، ان کی طرح انسانی طبیعتیں بھی مختلف ہیں۔یہ میں نے اب میرے الفاظ ہیں خلاصہ کیا ہے میں نے ، بعض چاندی کی طرح روشن بعض گندھک کی طرح بد بودار اور جلد بھڑ کنے والی اور جوش میں آنے والی بعض پارے کی طرح بے ثبات اور بے قرار، بعض لوہے کی طرح سخت اور کثیف اور میں ساتھ یہ مثال بھی دیتا ہوں کہ بعض ہیرے کی طرح روحانی شعاعوں سے جگمگانے والی مختلف قسمیں ہیں اور اس کے بغیر انسانی تمدن اپنے عروج کو ارتقائی ادوار میں سے گذرتا ہوا پہنچ نہیں سکتا تھا۔کثیف کاموں کے لئے کثیف طبیعتوں کی ضرورت ہے لطیف کاموں کے لئے لطیف طبیعتوں کی ضرورت ہے۔بعض ایسے کام ہیں مثلاً اب تو کچھ انسان نے سہولتیں اور قسم کی پیدا کر لیں لیکن ایک خاص وقت میں غسل خانوں وغیرہ کی گلیوں کی نالیوں کی صفائی بعض خاص قسم کی طبیعتیں ہی کر سکتی تھیں ہر آدمی کر ہی نہیں سکتا تھا۔ایک لطیف طبیعت کا آدمی گزرتے ہوئے ناک پر رومال ڈال کے گذرتا تھا ایک دوسرا آدمی اپنا ہاتھ بیچ میں ڈال کے نالی کو