انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 564 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 564

۵۶۴ سورة النساء تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث کرنے کے نتیجہ میں ہو یہ ایک تو بشری کمزوریوں کی وجہ سے ہوتا ہے یعنی ہر انسان میں بعض کمزوریاں ہیں اور بڑی کمزوری جس کی وجہ سے وہ گناہ پر دلیر ہو جاتا ہے یہ ہے جو بڑی طاقت بھی ہے اس کی ایک نقطہ نگاہ سے اور دوسرے نقطہ نگاہ سے بہت کمزوری بھی ہے وہ ہے اس کا صاحب اختیار ہونا کہ خدا تعالیٰ نے اسے یہ اختیار دیا کہ چاہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے احکام پر ایمان لائے اور ان کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھالے اور اگر چاہے تو وہ خدا تعالیٰ کے احکام ماننے سے انکار کرے اور ظلم اور گناہ اور اتم کا مرتکب ہو۔ایک پہلو سے بے انتہا فضلوں کا وہ وارث بنتا ہے بوجہ صاحب اختیار ہونے کے اور دوسری طرف اس کو یہ خدشہ بھی لگارہتا ہے کہ وہ خدا کو ناراض کرنے والا اور اس کے غضب کے نیچے آنے والا نہ ہو جائے۔انسان کو چونکہ ایک متمدن نوع بنایا گیا ہے مختلف الانواع ذمہ داریاں انسانی معاشرہ میں مجموعی طور پر انسان کو ادا کرنی پڑتی ہیں بعض ذمہ داریاں ہیں اس کے لئے بڑی کثیف اور کرخت قسم کی طبیعتوں کی ضرورت ہے۔بعض ذمہ داریاں ہیں جن کی ادائیگی کے لئے بہت لطیف طبائع کی ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس حقیقت کے پیش نظر انسان انسان کی قوتوں اور استعدادوں میں فرق پیدا کیا اور مختلف الاقسام طبائع اس نے پیدا کر دیں کیونکہ ذمہ داریاں مختلف تھیں۔بعض ذمہ داریاں ایسی ہیں کہ جن کے نتیجہ میں انسان جو ہے وہ زیادہ گناہ کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔اگر اس کے لئے پناہ کا کوئی راستہ بچاؤ کا کوئی ذریعہ نہ ہوتا ، اللہ تعالیٰ اس کی رحمت کے سامان نہ کرتا تو وہ کہہ سکتا تھا کہ اے میرے خدا! تو نے مجھے اپنی مصلحتوں کے نتیجے میں اس قسم کے کثیف قومی دے دیئے اگر میں ان کے نتیجہ میں کوتاہی کروں کہاں جاؤں تیرے در پر نہ آؤں تو۔تو اس وجہ سے بھی کمزوری پیدا ہوتی ہے، گناہ پیدا ہوتا ہے لغزش ہوتی ہے ارتکاب تلف حقوق ہوتا ہے تو اس کے لئے یہ دروازہ کھلا رکھا خدا تعالیٰ نے - ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللہ پھر وہ تو بہ کرتا ہے اور ندامت کے جذبات اس کے دل میں پیدا ہوتے ہیں۔تو باوجود اس کے کہ اس قسم کی طبعی کمزوری کے نتیجہ میں بار بار وہ کمزوری کی طرف جھکے گا جب بھی جھکے گا اور اس کے بعد اس کے دل میں ندامت پیدا ہوگی۔وہ ہمیشہ ہی بار بار خدا تعالیٰ کو غفور اور رحیم پائے گا۔تو کمزوریوں کے دروازے بھی اس کے اوپر کھلے ہیں بڑے لیکن خدا تعالیٰ کی مغفرت اور اس کی رحمت کے دروازے بھی بڑے کھلے ہیں۔