انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 51 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 51

تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۵۱ سورة الفاتحة کے لئے دعائیں کر کے منور رکھتے ہیں۔ہمارا خدا رحمان ہے۔ہم چاہتے ہیں کہ اس کی صفت رحمانیت کے مظہر کے طور پر اس کے جلوؤں میں اپنی طرف سے تھوڑی سی چاشنی ملا دیں۔تاکہ اس کی رحمتوں کے ہم بھی وارث بن جائیں۔یہ ضروری ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو باتیں بیان فرمائی ہیں۔خصوصاً اس ضمن میں وہ بڑی ضروری ہیں۔کئی لوگ ایسے موقع پر غصے میں آ جاتے ہیں۔ویسے تو یہ انسانی فطرت ہے۔غصہ میں آنا نہ بُرا ہے اور نہ قابلِ اعتراض ہے۔تاہم غصے کو نہ دبانا یہ بُری بات ہے۔میں نے بتایا تھا کہ ایبٹ آباد میں ہمارے مکان بن رہے تھے۔بعض لوگوں نے ان کو آگ لگادی جس سے ہمیں پچیس ہزار روپے کا نقصان ہو گیا۔ہمارے بعض احمد یوں نے بڑے غصے کا اظہار کیا۔میں نے اُن سے کہا تم بڑے عجیب لوگ ہو۔تم یہ بنیادی بات بھول جاتے ہو کہ جماعت احمدیہ کو اللہ تعالیٰ نے اتنا بلند مقام عطا فرمایا ہے اور اس کے اندر اتنی طاقت اور وسعت پیدا کر دی ہے کہ یہ ہیں پچیس ہزار روپے کی رقم اس کے لئے ایسی ہے جیسے ایک مضبوط جسم پر ایک مکھی آکر بیٹھ جائے۔کیا وہ مضبوط جسم اس مکھی کے بوجھ تلے دب جایا کرتا ہے۔نہیں ! ہرگز نہیں!! ہم ان کی ان حرکتوں کے نتیجہ میں ان کے دشمن نہیں بنتے۔بلکہ ہمارے دل میں اُن کے لئے رحم کی موجیں اور زیادہ شدت اختیار کر جاتی ہیں کہ قرآن کریم ایک حسین تعلیم تھی یہ اس سے غفلت برتنے والے ہیں اور اس کے کمالات سے بے خبر ہیں۔قرآن کریم یہ کہتا ہے کہ کوئی شخص اگر تم پر احسان نہ بھی کرے تب بھی تم اس پر احسان کرو۔یہ وہ لوگ ہیں جن پر ہم احسان کرتے ہیں وہ ہمیں مٹانے کے درپے ہیں۔ہم ان سے جزا اور شہ رشکر کا مطالبہ نہیں کرتے مگر وہ ہمیں مٹانے کے درپے ہیں۔وہ قرآن کریم کی تعلیم کو بھول جاتے ہیں۔ہم ان کے لئے دعائیں کر رہے ہیں اور وہ ہمیں گالیاں دے رہے ہیں اور نقصان پہنچانے کے درپے ہیں۔قرآن کریم نے ایک جگہ کہا ہے کہ یہ لوگ استہزاء کر رہے ہیں اور اے رسول! تو ان کی ان حرکتوں پر تعجب کر رہا ہے۔خدا نے ان کے لئے ایک عزت کا سامان آسمان سے بھیجا۔اور وہ اپنی عزیت اور شرف کے سامان کو پہچانتے ہی نہیں۔اسی طرح اللہ تعالیٰ کی صفت رحیمیت ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حقیقت کو بھی بطور مظہر اتم کے دنیا پر ظاہر فرمایا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی نصیحت فرمائی ہے کہ اپنے اپنے