انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 563
تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۵۶۳ سورة النساء يَجِدِ اللهَ غَفُورًا رَّحِيمًا وَمَنْ يَكْسِبُ اِثْمًا فَإِنَّمَا يَكْسِبُه عَلَى نَفْسِهِ وَ كَانَ اللهُ عَلِيمًا حَكِيمًا وَمَنْ يَكْسِبُ خَطِيئَةً أَوْ إِثْمًا ثُمَّ يَرْمِ بِهِ (۱۱۲ بَرِيئًا فَقَدِ احْتَمَلَ بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُبِينًا وَلَوْ لَا فَضْلُ اللهِ عَلَيْكَ وَ رَحْمَتُهُ لَهَمَّتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ أَنْ يُضِلُّوكَ وَمَا يُضِلُّونَ إِلا اَنْفُسَهُم و اِلَّا مَا يَضُرُّونَكَ مِنْ شَيْءٍ وَ اَنْزَلَ اللهُ عَلَيْكَ الْكِتَبَ وَالْحِكْمَةَ وَعَلبَكَ مَا b لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ وَكَانَ فَضْلُ اللهِ عَلَيْكَ عَظِيمًا , سورۃ نساء کی ان آیات میں گناہ کی حقیقت اور فلاسفی اور خدا تعالیٰ کی بعض صفات کی طرف توجہ ولائی گئی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو شخص بھی کوئی بدی کرے گا یا اپنے نفس پر ظلم کرے گا اس کے بعد اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی چاہے گا تو وہ اللہ تعالیٰ کو بہت بخشنے والا اور بار بار رحم کرنے والا پائے گا۔پھر فرماتا ہے کہ جو شخص کوئی بدی کرے اس کا فعل اسی پر الٹ کر پڑے گا اور اللہ تعالیٰ بہت جاننے والا اور حکمت والا ہے اور پھر فرماتا ہے کہ اگر کوئی شخص کوئی غلطی کرے اور گناہ کا مرتکب ہو اور خود گناہ کا مرتکب ہے لیکن الزام لگاتا ہے کہ یہ گناہ میں نے نہیں کیا بلکہ فلاں نے کیا تو وہ بہتان بھی باندھتا ہے اور بہت بڑے گناہ ،سب سے بڑے گناہ کا وہ مرتکب ہوتا ہے۔پہلی آیت میں دو قسم کے حقوق کی ادائیگی نہ کرنے کا ذکر ہے۔ایک حقوق العباد ایک حقوق نفس یعنی جو اللہ تعالیٰ نے حقوق انسانوں کے انسان پر قائم کئے ہیں ایک انسان ان حقوق کو توڑنے والا ہے۔مَنْ يَعْمَلْ سُوء اوه بدی کرتا ہے اور یہ نتیجہ ہم اس لئے نکالتے ہیں، یہ معنی ہم اس لئے کرتے ہیں کہ اس کا دوسرا حصہ اَوْ يَظْلِمُ نَفْسَۂ کہا گیا ہے کہ خود اپنے نفس پر ظلم کرتا ہے اور نفس کے حقوق کو بچا نہیں لاتا ، تو اس سے ہمیں یہ پتا لگتا ہے ، ویسے تو قرآن کریم کے بہت سے بطون ہیں ایک معنی ہم یہ کرتے ہیں کہ جو شخص غیروں کے حقوق کو پامال کرتا ہے وہ اپنے نفس کے حقوق کا بھی خیال نہیں کرتا اور اپنے نفس پر ظلم کرتا ہے۔یہ گناہ کا ارتکاب جو ہے خواہ وہ حقوق العباد کو تلف کرنے کے نتیجہ میں ہو یا حقوق نفس کے تلف