انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 562 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 562

تغییر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۵۶۲ سورة النساء ہوئی نہیں۔جب تمہاری طاقت میں نہیں ، جب تمہیں خدا تعالیٰ کی طرف سے ایسا اختیار نہیں دیا گیا تو تمہارا تجسس کرنا بے مقصد، بے نتیجہ، اپنے وقت کا ضیاع اور دنیا میں فساد اور بدامنی اور معاشرے میں الجھن پیدا کرنے کا باعث بن جاتا ہے۔اگر غور کیا جائے تو نہ کرنے والی باتیں بالواسطہ یا بلا واسطہ لغو سے ہی تعلق رکھتی ہیں۔(خطبات ناصر جلد تم صفحہ ۴۵۷) چھٹی شکل اللہ تعالیٰ نے جو مجاہدہ فی سبیل کی بتائی ہے وہ ہے خدا کے دین کی خاطر اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے انسان سفر کی صعوبتوں کو برداشت کرے۔سفر میں بہر حال ویسا آرام نہیں مل سکتا جیسا کہ اپنے گھر میں ملتا ہے۔بعض لوگ سفر سے گھبراتے ہیں۔بعض لوگ بار بار سفر کرنے سے گھبراتے ہیں۔تو ہمارے مربی، معلم اور انسپکٹر صاحبان کو جو سال کے چھ سات ماہ سفر میں رہتے ہیں خوش ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے بھی اپنی راہ میں مجاہدہ قرار دیا ہے۔اور اس کی جو برکات ایک مجاہد پر نازل ہوتی ہیں یہ لوگ بھی اس کے وارث ہیں۔جیسا کہ فرمایا يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا ضَرَبْتُمْ فِي سَبِیلِ اللهِ اگر چہ اس آیت میں اپنی کانٹیکسٹ (Context) کے لحاظ سے یعنی اس مضمون کے لحاظ سے جو اس آیت میں بیان ہوا ہے۔یہ سفر جنگ کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔لیکن جنگ کرنے کا ثواب علیحدہ ہے۔اور اِذَا ضَرَبْتُمْ فِي سَبِيلِ اللہ کا ثواب علیحدہ یہاں بتایا گیا ہے۔اسی طرح اِنْفِرُوا في سَبِيلِ الله (التوبة : ۳۸) ہے۔تو بہت دفعہ خدا کی راہ میں سفر کرنا پڑتا ہے۔مثلاً وقف عارضی میں وقف کرنے والوں کو میں نے یہی کہا تھا کہ تم بتاؤ کہ تم کتنا سفر کر سکتے ہو؟ اس کے جواب میں بعض دوستوں نے لکھا کہ ہم اپنے خرچ پر پندرہ ہمیں میل سفر کر سکتے ہیں بعض نے لکھا کہ ہم پچاس ساٹھ میل سفر کر سکتے ہیں۔بعض نے لکھا کہ ہم سو ڈیڑھ سو میل سفر کر سکتے ہیں۔بعض نے لکھا کہ سارے پاکستان میں جہاں آپ کی مرضی ہو بھجوا دیں۔ہم سفر کرنے کے لئے تیار ہیں تو ایسے مومن بھی مجاہدین میں شامل ہیں۔پس خدا تعالیٰ کی راہ میں سفر کرنے کو بھی اللہ تعالیٰ نے مجاہدہ کی ایک قسم قرار دیا ہے۔خطبات ناصر جلد اوّل صفحه ۴۴۸،۴۴۷) آیت ۱۱۱ تا ۱۱۴ وَمَنْ يَعْمَلْ سُوءًا اَوْ يَظْلِمُ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللَّهَ