انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 561 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 561

تغییر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۵۶۱ سورة النساء ہے اور ہر احمدی کا خصوصاً، جن کو میں اس وقت مخاطب کر رہا ہوں کہ وہ قانون شکنی نہ کریں اور قانون کو اپنے ہاتھ میں نہ لیں۔(خطبات ناصر جلد ششم صفحه (۴۶۵) آیت ۹۵ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا ضَرَبْتُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَتَبَيَّنُوا وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلَمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا تَبْتَغُونَ عَرَضَ الْحَيوةِ الدُّنْيَا فَعِنْدَ اللهِ مَغَانِمُ كَثِيرَةٌ كَذلِكَ كُنْتُم مِّنْ قَبْلُ فَمَنَّ الله عَلَيْكُمْ فَتَبَيَّنُوا اِنَّ اللهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا ۹۵ قرآن کریم نے اسلام اور مسلم کو دو مختلف معانی میں استعمال کیا ہے۔اس کے دوسرے معنے یہ ہیں کہ جو تمہیں سلام کہتا ہے اُسے تم یہ نہ کہو کہ تم مسلمان نہیں ہو۔وہ بالکل زبان کا ایک عام اقرار ہے۔حقیقی اسلام یعنی نفس کو خدا کے حضور سونپ دینے کا مطلب نہیں ہے وہاں یہ مطلب ہے کہ وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ اَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا (النساء : ۹۵) کہ جو تمہیں السلام علیکم کہے تمہارا حق یہ نہیں کہ تم کہو کہ تم مومن نہیں ہو۔وہ ظاہری حکم ہے جو ظاہری فساد کو روکنے کے لئے دیا گیا ہے اور اس کے اندر بڑی حکمت ہے لیکن اسلام کا وہ مقام جس کے بعد خوف اور حزن باقی نہیں رہتا وہ وہ مقام ہے جہاں انسان اپنے وجود کو اعتقادا اور عملاً اپنے رب کے حضور پیش کر دیتا ہے اور اسے سونپ دیتا ہے۔( خطبات ناصر جلد پنجم صفحه ۵۴) دوسروں میں عیب تلاش کرنا، اپنا وقت ضائع کرنا اور خود کو ہلاکت میں ڈالنا ہے۔اس حد تک اس پر زور دیا کہ فرمایا جب ہم کہتے ہیں لا تَجَسَّسُوا تو ہماری مراد یہ ہے کہ جب کوئی شخص ایمان کے دعوی کے ساتھ ( زبانِ قال سے یا زبان حال سے ) تمہیں سلام کہے ( کوئی شخص سفر کر رہا ہے، پیدل چل رہا ہے، رستے میں ایک شخص ملا اس نے سلام کیا ) لا تَقُولُوا لِمَنْ الْقَى إِلَيْكُمُ السَّلَمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا (النساء: ۹۵) تمہیں تجسس کرنے کی ضرورت نہیں۔اس نے ایمان کا اظہار کرتے ہوئے سلام کیا ہے۔تم اسے مومن سمجھو تجسس کا نتیجہ تب نکلتا، اگر انسان عیوب کی سزا دینے کا اختیار رکھتا اور اس کی طاقت بھی ہوتی۔تو جب نہ طاقت ہے نہ اختیار، تو بے نتیجہ بے تجسس۔جسے طاقت حاصل ہے اور جس کے اختیار میں ہے سزاد ینا یا معاف کر دینا، وہ تو اللہ تعالی علام الغیوب ہے، اس سے کوئی چیز چھپی